اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ عبوری معاہدے کے بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے درمیان اسرائیلی سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق تل ابیب کو سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی یا ان کا خاتمہ ہو سکتا ہے، جس سے ایرانی معیشت کو نئی طاقت مل سکتی ہے۔
اسرائیلی اخبار معاریو نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک عارضی معاہدے کا امکان مذاکرات کی مکمل ناکامی یا کسی وسیع علاقائی جنگ کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اس صورتحال کو اپنے اسٹریٹجک اہداف کے لیے چیلنج سمجھتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام، تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو خطے میں نسبتاً استحکام پیدا کر سکے۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق ممکنہ معاہدے میں اقتصادی دباؤ میں کمی، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، علاقائی جنگ بندیوں کی توسیع اور جوہری مذاکرات کے تسلسل کی راہ ہموار کرنے جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم تل ابیب کے نزدیک سب سے حساس پہلو اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی ہے۔
اسرائیلی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر ایران کو جوہری تنازع کے مکمل حل سے پہلے اقتصادی فوائد حاصل ہو جاتے ہیں تو وہ آئندہ مذاکرات میں زیادہ مضبوط پوزیشن کے ساتھ شریک ہوگا۔ ان کے مطابق پابندیوں میں نرمی سے ایران کی مالی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور وہ اپنی اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کوئی ایسا معاہدہ طے پاتا ہے جسے تل ابیب ناکافی سمجھتا ہے تو ایران اقتصادی فوائد حاصل کرتے ہوئے اپنی اہم اسٹریٹجک صلاحیتیں بھی برقرار رکھ سکے گا۔ اسی لیے اسرائیل سخت شرائط پر مبنی کسی معاہدے کا خواہاں ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نجی ملاقاتوں میں بعض امریکی شخصیات پر تنقید کی ہے جو ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اسرائیلی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ممکنہ معاہدے کے بعد ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے معاملات عالمی توجہ کے مرکز سے ہٹ سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ اس وقت ایک ایسے راستے کی تلاش میں ہے جو اسے کسی نئی علاقائی جنگ سے دور رکھتے ہوئے سفارتی کامیابی فراہم کر سکے۔ اسی تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان عبوری معاہدے کی کوششوں کو دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب کی اصل تشویش صرف جوہری مذاکرات نہیں بلکہ ایران پر موجود اقتصادی دباؤ میں ممکنہ کمی ہے، کیونکہ ان کے خیال میں اس سے ایران کی اقتصادی طاقت، تیل کی آمدنی اور مالی وسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں خطے کے تزویراتی توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ