اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکر جنرل رافائل گروسی سے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت اور تعاون کی پیشکش کی ہے۔ یہ اقدام قزاقستان کی ایران اور جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کی جانب سے خود کو یوریشیا میں جوہری سلامتی اور سفارت کاری کے ایک اہم اور غیر جانبدار کردار کے طور پر منوانے کی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے جوہری تحفظ، ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال اور عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ قزاقستان اور جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان 2036 تک تعاون کے روڈ میپ اور جوہری طب، سائنسی تحقیق اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
صدر توقایف نے جوہری اعتماد سازی کے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارتی ذرائع انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب رافائل گروسی نے قزاقستان کی سائنسی اور فنی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اسے جوہری توانائی کی ترقی اور بین الاقوامی منصوبوں میں شمولیت کے لیے موزوں ملک قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق قازقستان ایران کے جوہری معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان مرکزی ثالث تو شاید نہ بن سکے، تاہم اگر مذاکرات تکنیکی مراحل میں داخل ہوتے ہیں، خصوصاً افزودہ یورینیم کی نگرانی یا منتقلی جیسے معاملات میں، تو یہ ملک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
قزاقستان اس سے قبل بھی ایران کے جوہری سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کر چکا ہے۔ 2013 میں الماتی شہر ایران اور 1+5 گروپ کے مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے جبکہ جوہری معاہدے کے فریم ورک میں اس نے ایران کو 60 ٹن قدرتی یورینیم بھی فراہم کیا تھا۔ اسی طرح بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کم افزودہ یورینیم ذخیرہ بینک بھی قزاقستان میں قائم ہے، جو دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد مرکز سمجھا جاتا ہے۔
قزاقستان نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد جوہری ہتھیار ترک کرنے کی اپنی پالیسی اور عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام میں کردار کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ ملک نے 2050 تک جوہری صنعت کی ترقی کا منصوبہ بھی منظور کیا ہے جس میں کم از کم تین جوہری بجلی گھروں کی تعمیر، یورینیم پروسیسنگ کی توسیع اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون بڑھانا شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے سے متعلق جاری سفارتی سرگرمیوں میں قازقستان کی شمولیت نہ صرف اس کے بین الاقوامی مقام کو مضبوط بنا سکتی ہے بلکہ خطے کے سیکیورٹی اور سفارتی ڈھانچے میں اس کے کردار کو بھی مزید نمایاں کر سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ