19 مئی 2026 - 12:23
حصۂ سوئم | تائیوان؛ چین اور امریکہ کے درمیان تزویراتی نقطۂ جوش

ٹرمپ کا شور و وغوغا سے بھرپور دورہ چین کسی بھی کامیابی کے بغیر اختتام پذیر ہؤا اور دونوں ممالک کے درمیان ـ تائیوان کے محور کے گرد ـ تزویراتی تقابل ایک بار پھر  شدت اختیار کر گیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛  ٹرمپ کے دورہ چین کے گرد وسیع پیمانے پر تشہیری مہم اور بہت سی خوش فہمیوں کے باوجود، اس واقعے نے بیجنگ کے مقابلے میں واشنگٹن کی  پوزیشن کو بہت ہی کمزور کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حصۂ سوئم:

المانیٹر: چین پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، ال-مانیٹر

امریکی اخبار ال-مانیٹر (Al-Monitor) نے بھی لکھا: "ٹرمپ کے دورہ چین سے ایران کے معاملے پر کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوئی۔ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور پابندیوں کے باوجود، ایران سے خام تیل خریدتا ہے۔ ٹرمپ کے برعکس، جسے امریکہ میں شدید گھریلو دباؤ کا سامنا بھی ہے، شی جن پنگ کو آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی جلدی نہیں ہے: چین اسی وقت بھی آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ تعاون اور تعامل کر رہا ہے؛ اور پھر یہ تنازع چین کے لئے ایک سنہری موقع بھی ہے۔ یہاں تک کہ اگر بیجنگ تہران کو معاہدے پر آمادہ بھی کرنا چاہے، تو تب بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ایران چین کی پیروی کرے گا۔

ایران پر جارحیت کی وجہ سے، تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ ممکنہ تصادم کے لئے، امریکی گولہ بارود کے گولہ بارود کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا

امریکہ نے ہمیشہ تائیوان میں ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر فوجی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اس نے ایران کے ساتھ غیر قانونی اور بلاوجہ جنگ میں اپنے فوجی وسائل استعمال کر دیئے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی جنگ چین کے لئے ایک موقع بن گئی ہے کہ وہ امریکی فوج کی کمزوریوں کو پہچانے اور حاصل کردہ تجربے کو اس رژیم کا بہتر انداز سے مقابلہ کرنے کے لئے بروئے کار لائے۔

اسی تناظر میں، واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے: "ایران کے ساتھ امریکی جنگ نے بڑی مقدار میں امریکی گولہ بارود تباہ کر دیا ہے، خاص طور پر انٹرسیپٹر میزائل اور گائیڈڈ بموں کا ذخیرہ، جو تائیوان پر مستقبل میں چین کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تصادم کے لئے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ جنگ نے بیجنگ کو یہ دیکھنے کا ایک نادر موقع بھی فراہم کیا کہ امریکی فوج کس طرح جدید کارروائیاں کرتی ہے اور چین کے خلاف فوجی منصوبہ بندی کے بارے میں کیا کیا سبق سیکھ رہی ہے۔ ایران کے ساتھ جاری امریکی جنگ کے نتیجے میں، فوجی، اقتصادی، سفارتی اور ابلاغیاتی شعبوں میں، ـ جب کہ امریکی محکمہ دفاع کے اندر بھی ـ اس تنازع کے جغرافیائی سیاسی مضمرات کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

ایران سے تیل کی خریداری روکنے کی ٹرمپ کی تجویز کی چین کی طرف سے مخالفت، نیز آبنائے ہرمز  کھولنے کے لئے کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالفت نے ٹرمپ کو مایوس کر دیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اپنے علاقائی اتحادیوں کو پیچھے ہٹانے یا کمزور کرنے پر آمادہ نہیں ہے اور یہ کہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ امریکی نمائندے کے طور پر ذلت آمیز پوزیشن میں نظر آئے اور دوطرفہ مذاکرات کی ناکامی نے دونوں ممالک کے درمیان طاقت کا توازن بیجنگ کے حق میں بدل دیا۔ ٹرمپ کے دورہ چین نے پہلے سے کہیں زیادہ یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کی پوزیشن عالمی سطح پر بھی کمزور اور زوال پذیر ہو رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد حسین حمزہ

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha