بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کیتھولک عیسائیوں کے عالمی پیشوا پوپ لیو چہاردہم ـ جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کی بنا پر پیڈوفائل امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" کو ناراض کر دیا تھا ـ نے کہا: دنیا کو جنگوں سے بہت نقصانات پہنچے ہیں، ہتھیاروں کی توسیع و تجدید کشیدگی اور بدامنی میں اضافہ کرتی ہے، صحت اور تعلیم میں سرمایہ کاریوں کو کمزور کر دیتی ہے، سفارتکاری کے ساتھ غداری کرتی ہے اور ان امراء کو مزید امیر بنا دیتی ہے جو عمومی فلاح کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔
پوپ نے یوکرین، غزہ، لبنان اور ایران میں ہونے والے جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے، جنگ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے سلسلے میں خبردار کیا اور اس کو "غیر انسانی ارتقاء اور تباہ کاری کی بھول بھلیوں" سے تعبیر کیا۔
نیز ایک امریکی مصنف ٹریٹا پارسی نے پوپ لیو چہاردہم کے حوالے سے ایکس نیٹ ورک پر اپنے پیغام میں لکھا:
- پوپ لیو چہاردہم نے کہا: ایران کے خلاف جنگ غیر منصفانہ ہے۔
- یہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ مزید نفرت پھیلا رہی ہے۔
- انھوں امریکی عوام سے تقاضا کیا کہ وہ کانگریس سے رابطہ کریں اور جنگ کے خآتمے اور قیام امن کے لئے قانون سازوں پر دباؤ ڈالیں۔

نکتہ:
کیتھولک عیسائی دنیا کے پیشوا پوپ لیو چہاردہم ایسے حال میں حریت اور انسان دوستی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں کہ خلیج فارس کی ریاستوں کے بعض نامہ نہاد ائمۂ جماعت نے قرآن کریم کی صریح آیات کا انکار کرتے ہوئے ایران پر امریکی صہیونی جارحیت کے دوران فتویٰ دیا کہ لوگ اپنی زکٰوۃ امریکی اور صہیونی افواج کے لئے بھجوا دیں!
واضح رہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستیں اس جارحیت میں یہود و نصاریٰ کے محاذ کا حصہ رہے، سب نے اپنے اڈے اسلام دشمن طاقتوں کے سپرد کی تھیں جن سے ایران پر حملے ہو رہے تھے اور ان میں سے کچھ ریاستوں نے اس جنگ میں ـ خود بھی ـ حصہ لیا اور ایران پر حملے کئے۔ جس ملک کے مولوی مفتی اور وہ ہوں یقینا اس کے حکمران ایسے ہی ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ