22 فروری 2026 - 05:57
امریکی عدالت کا فیصلہ: چیس کا ایک اور مہرہ گرگیا / "دباؤ کا نیا 'ٹرمپ کارڈ' بھی بیکار

 جہاں ٹرمپ کے "صفر کرنے" کا خواب ایران کی تیل برآمدات کے سمندر میں ڈوب چکا تھا، وہیں ایک اور ہتھیار بھی امریکی عدالت عظمیٰ کے دروازے پر بے کار ہو گیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||

باب اول: واشنگٹن کے اندر ایک اور دھچکا

جہاں ٹرمپ کے "صفر کرنے" کا خواب ایران کی تیل برآمدات کے سمندر میں ڈوب چکا تھا، وہیں ایک اور ہتھیار بھی امریکی عدالت عظمیٰ کی دہلیز پر ناکارہ ہو گیا۔

چیف جسٹس امریکہ، جان رابرٹس نے اپنے فیصلے میں کہہ دیا:

"ٹرمپ کی IEEPA کی تشریح حد سے زیادہ وسیع ہے، یہ کانگریس کے اختیارات میں مداخلت ہے"

گویا وہ تعزیری ٹیرف جس کو ایران کے تجارتی شراکت داروں کو نشانہ بنانا تھا، پیدا ہوتے ہی دم توڑ گیا۔

 پسِ منظر: ناکامیوں کی ایک طویل داستان

دوسرا باب: تیل کی جنگ 

  • امریکی دعویٰ: ایران کی تیل برآمدات صفر
  • حقیقت: ایران چین کو سمندری راستے سے تیل بھیجنے والا پہلا ملک ہے۔

تیسرا باب: پابندیوں کا سلسلہ 

  • سینکڑوں پابندیاں (افراد، بحری جہاز، ریفائنریز، بندرگاہیں)
  • نتیجہ: ایران کی معیشت بدستور زندہ، پنپنی، پھلتی پھولتی

چوتھا باب: ٹیرف کا نیا ہتھیار 

  • 25  فیصد تعزیری ٹیرف ایران کے تجارتی شراکت داروں پر
  • مقصد: تہران کے ساتھ کام کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا
  • انجام: عدالت نے اسے بھی ناکارہ کر دیا

ماہرین کی نظر میں: مدھم پڑتی چال

مجید شاکری، ماہر اقتصادیات کا تجزیہ:

"ٹرمپ کے مذاکراتی ماڈل کو اب شدید دھچکا لگا ہے، اور اسے زندہ کرنا تقریباً ناممکن ہے"

ان کے مطابق:

  • ٹرمپ 1974 کے قانون کی مختلف دفعات کا آمیزہ استعمال کرنا چاہتے تھے
  • شق 122 کے تحت 10 فیصد عمومی ٹیرف تیز ترین طریقہ تھا
  • لیکن یہ شق عارضی ہے اور ایران جیسے معاملات میں اس کا استعمال انتہائی مشکل ہے۔

نیا محاذ: عمومی ٹیرف کی طرف

ٹرمپ نے فوری ردعمل میں اعلان کیا:

"اب تمام ممالک پر 10 فیصد عمومی ٹیرف عائد کیا جائے گا"

گویا ایران کے خلاف خصوصی ہتھیار ناکام ہونے کے بعد، وہ پوری دنیا کے خلاف اعلان جنگ پر اترے آئے ہیں! لاچارگی کی انتہا۔

آخری باب: اس شکست کے معنی

یہ فیصلہ دراصل امریکہ کے اندرونی نظام کی مضبوطی کی داستان ہے:

  • صدر کے اختیارات کی حدود کا تعین کانگریس اور عدلیہ کے پاس ہیں
  • انتظامیہ کی من مانی عدالتی جائزے سے نہیں بچ سکتی
  • ایران پالیسی میں ٹرمپ کی ہر چال اب کمزور پڑ کر ناکام ہو رہی ہے

 نکتۂ آخر: تقدیر کا قلم

پیغام صاف ہے:

"وہ ٹیرف جو ایران کے خلاف آخری ہتھیار تھا، ابھی میدان میں آنے سے پہلے ہی منہدم ہو گیا"

یہ وہ لمحہ ہے جب ٹرمپ کی شطرنج کی بساط پر ایک اور مہرہ بے جان ہو کر گر پڑا ہے، اور ایران بدستور اپنی جگہ قائم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترمہ فاطمہ صادقی کے مضمون کا خلاصہ، فارس نیوز ایجنسی

بقلم: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha