بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا: اگر فرض کریں کہ امریکی افواج کا یہ دعویٰ ـ کہ امریکی ایئر ڈیفنس سسٹم ایران کے 90 فیصد میزائلوں اور ڈرونز کو مار گراتا ہے، تو بھی 10 فیصد میزائل اور ڈرونز اہداف تک پہنچ جاتے ہیں اور یوں کہا جاسکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی اڈے ـ جو کسی وقت واشنگٹن کا قیمتی اثاثہ سمجھے جاتے تھے آج ایرانی ہتھیاروں کے لئے ایک آسان ہدف بن چکے ہیں اور ایرانیوں نے اس امریکی اثاثے کو امریکی کمزوری میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس اخبار نے لکھا: کہا جاتا ہے کہ امریکی ایئرڈیفنس سسٹم، بہترین کارکردگی کی صورت میں، 90٪ تک کامیاب رہ سکتا ہے اور ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے نشانہ بنا سکتا ہے!
اخبار کے مطابق، اس صورت میں 10٪ ایرانی میزائل اور ڈرون امریکی اڈوں کی دفاعی شیلڈ سے گذر کر اپنے نشانوں تک پہنچ جاتے ہیں اور چونکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فورسز وسیع پیمانے پر موجود ہیں، لہٰذا ایران اپنے سستے ڈرون ان اڈوں کی طرف بھیج سکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ خطے میں امریکی اڈے جو چيز کسی وقت امریکیوں کے لئے ایک اثاثہ اور امتیازی خصوصیت سمجھے جاتے تھے، اب امریکہ کے لئے کمزور نقطہ (Weak point) اور اس ملک کی زدپذیری کی علامت بن چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ