اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، نئے عوامی سرویز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، یہاں تک کہ ان کے روایتی حامیوں اور ریپبلکن ووٹروں میں بھی حمایت کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی جریدے نیوزویک کی جانب سے شائع کی گئی دو معتبر رائے عامہ جائزہ رپورٹس کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کی مقبولیت ان کی دوسری صدارتی مدت کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔
"ایشوز اینڈ انسائٹس/ٹی آئی پی پی" سروے کے مطابق ریپبلکن ووٹروں میں ٹرمپ کی حمایت کم ہو کر 75 فیصد رہ گئی ہے، جو اس ادارے کے ریکارڈ میں اب تک کی سب سے کم سطح سمجھی جا رہی ہے۔ اسی سروے میں 18 فیصد ریپبلکن ووٹروں نے ٹرمپ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جو اس حلقے میں بڑھتی ناراضی کا واضح اشارہ ہے۔
دوسری جانب "راسموسن رپورٹس" کے روزانہ سروے، جو عمومی طور پر ریپبلکن ووٹروں کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے، میں 5 مئی کو ٹرمپ کی مقبولیت کا انڈیکس منفی 23 تک گر گیا۔ سروے کے مطابق صرف 41 فیصد ووٹروں نے ان کی کارکردگی کی حمایت کی جبکہ 57 فیصد نے مخالفت کی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ "مضبوط حمایت" کی شرح کم ہو کر 25 فیصد رہ گئی ہے جبکہ "شدید مخالفت" بڑھ کر 48 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کو ابھی چند ماہ ہی گزرے ہیں اور ایران کے ساتھ جنگی کشیدگی اور معاشی مشکلات کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی خطرے کی علامت بن سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ