بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جہاں ٹرمپ نے بڑے شور شرابے کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے "آزادی پروجیکٹ" کا وعدہ کیا تھا، وہاں ایران کی بحری قوت نے اس منصوبے کو امریکہ کے لئے ایک رسواکن شکست میں بدل دیا۔ ٹرمپ کی اچانک پسپائی اور "مذاکرات" کے بہانے اپنے بیانئے میں تبدیلی، اسلامی ایران کی تصور سے بالاتر طاقت کے سامنے امریکی بحریہ کی نااہلی چھپانے کی آڑ تھی جس سے معلوم ہؤا کہ دنیا کے تزویراتی اسٹرٹیجک تنگ راستوں (یا گذرگاہوں Chokepoints) میں ایران کی غیر متناسب دفاعی حکمت عملی (Asymmetric Defense Strategy) کے سامنے امریکی بحری طاقت تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔
ایران نے (سنہ 1980ع کے عشرے کی) "ٹینکروں کی جنگ" کا اپنا تجربہ جدید ڈرونز کے ساتھ ملا دیا ہے، وال سٹریٹ جرنل
وال سٹریٹ جرنل اس فضا میں لکھتا ہے: "ایران نے 'ٹینکروں کی جنگ' کا اپنا تجربہ جدید ڈرونز کے ساتھ ملا دیا ہے۔" یہ اخبار اشارہ کرتا ہے: "40 سال پہلے، ایران اور امریکہ تیل کی ترسیل کے راستے پر آمنے سامنے تھے۔ یہ واقعہ آج کی جنگ سے مشابہت رکھتا ہے۔ سنہ 1980ع کی دہائی میں 'ٹینکروں کی جنگ' کے دوران، ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مسلط کرنے کے لئے میزائل، بارودی سرنگیں اور تیز رفتار کشتیاں استعمال کیں۔ اس بار، اس سے پہلے والے اسی انداز کو اپنانے کے ساتھ ساتھ، ایران کے پاس حملہ آور ڈرونز کا ایک عظیم بیڑا بھی ہے جو اس کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ ایران کے جدید ہتھیار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کو اس طرح نشانہ بنا سکتے ہیں کہ ان سے نمٹنا مشکل اور مہنگا ہو۔ جیسا کہ ٹینکروں کی جنگ میں تھا، ایران اب بھی اپنے جغرافیائی فوائد سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور امریکی بحریہ کو دور رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔"

چند راتیں پہلے امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے قابلِ تعریف دفاع اور مزاحمت کے باعث بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔ کل رات بھی وہ ایران کی بحری قوت کے سامنے عاجز رہا۔ امریکہ نے ثابت کرکے دکھایا کہ اس کی نام نہاد طاقت اور عملی صلاحیت کے درمیان فاصلہ اور خلا بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا وعدہ، ایران کی طرف سے خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کی حقیقت کے سامنے، ایک فوجی منصوبے سے ایک وہم میں تبدیل ہو گیا اور "آزادی پروجیکٹ" تاریخ کا حصہ بن گیا۔ بدلتے ہوئے حالات نے عیاں کر دیا کہ جنگ کے قواعد طے کرنا ایران کے ہاتھ میں ہے۔ ہر شکست کے بعد ٹرمپ کے بیانیوں کی تبدیل کرنے کی کوششیں، اسلامی ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور عالمی نظام میں تبدیلی کی علامت ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد حسین حمزہ
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ