8 مئی 2026 - 08:33
آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کے "پروجیکٹ فریڈم" کی شکست پر عالمی میڈیا کا رد عمل

بین الاقوامی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق، "پروجیکٹ فریڈم" (Project Freedom) جسے ٹرمپ انتظامیہ نے زبردست تشہیر کے ساتھ شروع کیا تھا، ابتدائی 48 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں روک دیا گیا اور اس واقعے "ایک زوال پذیر طاقت" کی ایک اور علامت نمایاں کر دی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بین الاقوامی ذرائع اور متعدد تجزیوں کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی زبردست تشہیر کے ساتھ شروع ہونے والا "پروجیکٹ فریڈم" (Project Freedom)  ابتدائی 48 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں روک دیا گیا۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اس آپریشن کا مقصد آبنائے ہرمز پر ایرانی افواج کا کنٹرول فوجی طاقت سے توڑنا تھا، لیکن عملی طور پر یہ آمریکی کاروائی بھی ـ گذشتہ کاروائیوں کی طرح ـ مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ مقصد کو حاصل نہ کر سکا۔ عالمی میڈیا، خاص طور پر چین اور روس کے ذرائع ابلاغ نے اس واقعے کو امریکہ کے لئے ایک بھاری شکست قرار دیا ہے۔

چینی میڈیا: ایک ناکام ٹیسٹ جس نے امریکی تزویراتی ضعف کو عیاں کر دیا

چین کے بڑے ذرائع ـ بشمول شینہوا نیوز ایجنسی، گلوبل ٹائمز اور پیپلز ڈیلی سمیت ـ نے اپنے تجزیوں میں کئی نکات پر زور دیا:

انسانی ہمدری کے لبادے میں تسلط پسندانہ اہداف

ان ذرائع کے خیال میں، "پروجیکٹ فریڈم" انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ خلیج فارس میں امریکی فوجی بالادستی کو برقرار رکھنے اور ایران کی سرخ لکیروں کو جانچنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اصل مقصد آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کا مقابلہ کرنا اور ٹرمپ کے لئے اندرونی سیاسی فوائد حاصل کرنا تھا۔

امریکہ نے ایران کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

بہت سے تجزیوں نے واضح طور پر "ذلت آمیز شکست" اور "امریکی فوجی طاقت کو درپیش تعطل" پر زور دیا۔ گلوبل ٹائمز نے لکھا، "امریکی فوج ایران کی بنائی ہوئی سمندری رکاوٹ پر قابو پانے میں ناکام رہی" اور یہ واشنگٹن کے تمام اتحادیوں کے لئے ایک واضح پیغام تھا۔

بنیادی وجہ: اسٹریٹجک غلطی اور اتحادیوں کی عدم حمایت

چینی تجزيہ کاروں نے زور دیا کہ واشنگٹن نے ایران کی فوجی صلاحیت کا غلط تخمینہ لگایا اور علاقائی اتحادیوں کو اپنے ساتھ نہ لا سکا۔ سعودی عرب اور خلیج فارس کے دوسرے عرب ممالک نے اس آپریشن میں شرکت سے انکار کر دیا اور یہاں تک کہ اپنے اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دی؛ [ما سوائے امارات کے جو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا

چین اس جنگ کا حتمی فاتح!

چینی میڈیا نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس بحران میں، ایران اور عرب ممالک کے درمیان ثالثی میں بیجنگ کا سفارتی کردار پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔

کچھ تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ "یہ وہی حقیقت ہے جس سے امریکہ سب سے زیادہ خوفزدہ  ہے؛ مغربی ایشیا کے نئے جیو پولیٹیکل فارمولوں میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ"۔

روس کے میڈیا: ایران کی فتح اور مغربی کیمپ میں دراڑ

روسی میڈیا (بشمول اسپوتینک اور روسیا سیگودنیا) نے بھی تند و تیز لب و لہجے میں امریکہ کی شکست کا خیرمقدم کیا:

اتحادیوں نے امریکہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا!

روسی رپورٹوں نے سعودی عرب سمیت کچھ عرب ریاستوں  کی طرف سے امریکی  آپریشن کی مخالفت کا حوالہ دیا اور اسے "علاقے میں امریکی اتحاد کا خاتمہ" قرار دیا۔

اسپوتینک نے لکھا: "ٹرمپ کو توقع تھی کہ ایک اشارے پر عرب ممالک قطار باندھ لیں گے، لیکن انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ  ملنے اور سیاسی خودکشی مول لینے سے انکار کر دیا۔"

بین الاقوامی میڈیا: ٹرمپ کے لئے ایک "مکمل ذلت"

امریکہ کے علاوہ مغربی میڈیا نے بھی اس شکست کو بے مثال الفاظ میں کور کیا:

برطانوی ذرائع:

اسکائی نیوز (Sky News) نے اس آپریشن کو "ٹرمپ کے لئے حتمی ذلت (ultimate humiliation)"  قرار دیا جو دو دن سے بھی کم عرصے میں بکھر گیا۔

ڈیلی میرر (Daily Mirror) نے "ایران نے ٹرمپ کو عالمی سطح پر رسوا کر دیا" کی سرخی کے ذیل میں لکھا: "وائٹ ہاؤس ایک بھی تجارتی جہاز کو ایران کی فائر لائن سے گزار نہ سکا۔"

فرانسیسی میڈیا:

فرانس 24 چینل: اس آپریشن کو "قبرستان کا پیدائشی" قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام کا ماحول "اتنا عجلت زدہ اور غیر پیشہ ورانہ تھا کہ اس کے پاس فتح کا کوئی منظرنامہ ہی نہیں تھا"۔

میڈیا کا مجموعی خلاصہ

مختصراً، چین، روس، ایران، ـ حتیٰ کہ مغربی میڈیا کے ایک اہم حصے ـ کا ماننا ہے کہ:

'پروجیکٹ فریڈم فوجی کاروائی' [نہ کہ انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام] امریکہ کے لئے ایک مکمل سیاسی-فوجی شکست تھی۔

• ایران نے اپنی تسدیدی صلاحیت اور آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو مکمل کامیابی کے ساتھ مستحکم کر لیا۔

• خلیج فارس میں امریکہ کے روایتی اتحادیوں نے جنگ کی آگ بھڑکنے کے خوف سے واشنگٹن کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔

• علاقائی بحرانوں کے انتظام میں چین اور روس کی سفارتی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے اور چین ایک ثالث طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔

بالآخر، یہ آپریشن جس نے "آبنائے ہرمز کا تالا توڑنے" کا وعدہ کیا تھا، اس نے خود مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی پیچیدگی اور امریکہ کی یکطرفہ طاقت کے زوال پر ایک اور تالا لگا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha