بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس کی توجہ ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنے پر مرکوز ہے، لیکن اس نے ضمنی طور پر ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے نعروں سے پسپائی اختیار کر لی۔
ترامپ نے پیر کو، قدامت پسند ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ (Hugh Hewitt) کے ساتھ ایک انٹرویو میں مذاکرات میں اپنی سرخ لکیروں پر اظہار خیال کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں اپنے دعوؤں کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کے اعلیٰ افزودگی والے یورینیم کا مسئلہ امریکہ کے لئے ایک سرخ لکیر ہے۔
تاہم، اس نے ایران کی میزائل قوت کے سرخ لکیر ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: 'ہاں، لیکن جانتے ہو، تمہیں پڑوسیوں پر بھی نظر رکھنا ہوگی، وہ (پڑوسیوں) سے کم (میزائل رکھنے پر) نہیں راضی نہیں ہو سکتے... وہ کہتے ہیں تو پھر، دوسروں کا کیا ہوگا؟'
ٹرمپ نے مزید کہا: 'دیکھو، میزائل برا ہے، انہیں ایک حد کا تعین کرنا چاہئے، لیکن معاملہ یہ ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتے۔'
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ الفاظ ایران کی میزائل قوت کے خاتمے کے بارے میں سابقہ دعوؤں کے مقابلے میں 'نمایاں طور پر محتاطانہ' تصور کئے جاتے ہیں۔
ٹرمپ نے مزاحمتی محاذ کی حمایت کے مسئلے کو بھی سرخ لکیر قرار نہیں دیا اور محض یہ دعویٰ کیا: 'ٹھیک ہے، وہ ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ ابھی، اگر ہم آج چلے جائیں (جنگ روک دیں)، تو ان کے ملک کی تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے اور یہ کبھی پہلے جیسا نہیں ہو سکتا۔'
نکتہ:
ایران کے خلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں سے پیچھے ہٹ کر، شکست ماننے کی طرف قدم بقدم پسپا ہونے والا ٹرمپ کہہ رہا ہے:
"دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ