6 مئی 2026 - 01:05
اگر آپ کی سرزمین میں امریکی اڈہ ہے، تو آپ آزاد نہیں بلکہ مقبوضہ ملک ہیں، پروفیسر جیفری ساکس

سینئر امریکی تجزیہ کار جیفری ساکس (Jeffrey Sachs) نے ایران پر حملوں اور اس ملک کے خلاف فوجی جارحیت کو نظر انداز کرنے کے بارے میں بعض ممالک کے متضاد رویوں پر تنقید کی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ منگل کو رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، انھوں نے اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک پر امریکی کنٹرول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کہا:

• اگر آپ کے ملک میں امریکی فوجی اڈہ ہے، تو آپ ایک آزاد ملک نہیں ہیں۔ یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک مقبوضہ ممالک ہیں۔

•• دوسری جنگ عظیم ختم ہونے کے 80 سال بعد بھی جرمنی امریکی اڈوں کی میزبانی کیوں کرتا ہے؟

•• دوسری جنگ عظیم ختم ہونے کے 80 سال بعد بھی جاپان ان اڈوں کی میزبانی کیوں کرتا ہے۔ یہ قاعدہ نیٹو کے تمام رکن ممالک پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

• امریکہ ان ممالک کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ آزاد ممالک نہیں ہیں۔

• ان ممالک کے نمائندے بدقسمتی سے بمشکل ایک مربوط جملہ ادا کر سکتے ہیں۔

• وہ اقوام متحدہ میں صرف ایرانی حملوں کی بات کرتے ہیں اور یہ اشارہ تک نہیں کرتے کہ ایران ان ہی کے ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا نشانہ بنا ہے۔

ایران پر فوجی جارحیت اور تہران کے امریکی اڈوں پر سخت جوابی کارروائی کے بعد، ماہرین نے خطے میں امریکی اڈوں کی موجود کے مقاصد پر سوالات اٹھائے ہیں۔

بعض مغربی اور عرب تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اڈے بظاہر خلیج فارس کے ریاستوں کی حفاظت کرنے کے لئے قائم کئے گئے تھے، لیکن خطے میں ان کی موجودگی کی وجہ سے ان ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے اور وہ خود ان اڈوں کی حفاظت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جنہیں ان ممالک کی حفاظت کرنا تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha