اہل بیت نیوزا ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے ویانا میں بین الاقوامی ادارے میں روس کے مستقل نمائندےمیخائیل اولیانوف نے کہا ہے کہ اسرائیل خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے ویانا میں گفتگو کرتے ہوئے ایران کی جانب سے پیش کردہ علاقائی سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تجویز کو ایک مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کے لیے نئی سفارتی کوششیں بھی شروع کر سکتا ہے۔
روسی نمائندے کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے معاہدہ عدم پھیلاؤ جوہری ہتھیار (NPT) میں شامل نہ ہونے کی پالیسی اس مقصد کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب سرگئی نیچایف، جو جرمنی میں روس کے سفیر ہیں، نے خبردار کیا کہ یورپ میں “ایٹمی چھتری” کو مضبوط بنانے کی کسی بھی کوشش کو روس اپنی سلامتی کے خلاف براہِ راست خطرہ سمجھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات روس کو اپنی دفاعی اور اسٹریٹیجک پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ