3 مئی 2026 - 22:16
ایران کے ساتھ جنگ کے نتائج پر امریکی فلم ساز کا رد عمل + تکمیلی نکات

امریکی فلم ساز ڈیلن ریٹیگن نے لکھا: امریکہ میں آئین کی پابندی شدت سے کمزور پر گئی ہے اور کانگریس نے اس جنگ کی تجویز منظور نہیں کی ہے۔ / ریٹیگن سوال اٹھاتا ہے کہ 'کیا کوئی چیز ہے جو میں بھول گیا ہوں؟' اوران کے جواب میں 10 نکات بیان کئے گئے ہیں؛ پڑھ لیجئے:

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی فلم ساز ڈیلن ریٹیگن (Deylan Ratigan) نے ایران پر مسلط کردہ امریکی جنگ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا:

جو کچھ میں ایران کے خلاف امریکی جنگ سے سمجھتا ہوں:

1۔ آبنائے ہرمز بند ہو گیا ہے، عالمی توانائی کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہؤا ہے۔

2۔ خلیج فارس کی ریاستوں میں امریکی اڈے تباہ ہوچکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔

3۔ امریکی گولہ بارود کے ذخائر ختم ہونے کو ہیں۔

4۔ نئے دفاعی معاہدوں سے ہونے والی کمائی صدر [ٹرمپ] کے اہل خانہ کے اکاؤنٹس میں جمع کرائی جا رہی ہے۔

5۔ یورپ کے ساتھ امریکی تعلقات ـ دوسری عالمی جنگ کے بعد ـ انتہائی نچلی سطح پر پہنچے ہیں

6۔ ایران کا جوہری اسلحہ خانہ صحیح و سالم رہ گیا ہے۔

7۔ اسرائیل عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔

8۔ امریکہ میں آئین کی پابندی شدت سے کمزور پڑ گئی ہے اور کانگریس نے اس جنگ کی تجویز منظور نہیں کی ہے۔

کیا کوئی چیز ہے جو میں بھول گیا ہوں؟ اب ان سب کا امریکہ کے لئے فائدہ کیا ہے؟

ایران کے ساتھ جنگ کے نتائج پر امریکی فلم ساز کا رد عمل + تکمیلی نکات

جی ہاں! ڈیلن ریٹیگن بہت کچھ لکھنا بھول گیا ہے:

1- وہ بھول گیا ہے کہ ایک مسلم ملک نے پوری دنیا کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکی سلطنت کو شکست دی ہے۔

2- وہ بھول گیا ہے کہ ایک مسلم ملک چوتھی عالمی طاقت بن گیا ہے۔

3- وہ بھول گیا ہے کہ پوری تاریخ میں پہلی بار ایک مسلم ملک نے مغربی ایشیا میں اس کے تمام تر اثاثوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے اور اس کے فوجیوں کو گھروں اور ہوٹلوں میں چھپنے پر مجبور کر دیا۔

4- وہ بھول گیا ہے کہ اردن، کویت، سعودیہ، امارات، قطر اور بحرین کو پہلی بار یقین ہو گیا ہے کہ امریکہ نہ صرف ان کی بادشاہتوں کی حفاظت نہیں کر سکتا بلکہ وہ اپنے فوجیوں، جہازوں، اڈوں اور طیاروں تک کی حفاظت سے عاجز ہے۔

5- وہ بھول گیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کی معیشت تباہ ہو رہی ہے اور عالمی معیشت سکڑ گئی ہے۔

6- وہ بھول گیا ہے کہ نہ صرف یورپ اور ایشیا بلکہ امریکہ میں بھی زراعت کے لئے ضروری کھادیں خلیج فارس میں بند ہیں۔

7۔ - وہ بھول گیا ہے کہ ایران نے خلیج فارس پر اپنا قانون نافذ کیا ہے اور اب امریکی اور اسرائیلی جہاز اس سمندری خطے میں داخل ہونے سے بے بس ہیں۔

8۔ - وہ بھول گیا ہے کہ خلیج فارس اب امریکی موجودگی کے بغیر خطے کی قوموں کی خوشحالی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اور بعد ازیں یہاں کوئی جنگ یا کشیدگی نہیں ہوگی۔

9۔ - وہ بھول گیا ہے کہ امارات اور بحرین یا قطر اور کویت یا سعودی عرب اور اردن اب امریکہ کے لئے محفوظ اڈوں کا کردار ادا نہیں کر سکتیں۔

10- وہ بھول گیا ہے کہ مغربی ایشیا میں مقاومت کی حکمرانی آنے والی ہے اور اسرائیل کو اب ایران کے تاریخی منصوبے کے تحت یہودی اپارتھائیڈ حکمرانی منسوخ کرکے فلسطین کو صرف فلسطینیوں کے سپرد کرنا ہوگا، چاہے وہ مسلمان ہوں، چاہے عیسائی ہوں یا مقامی یہود۔۔۔ اور دوسرے ممالک سے آنے والے یہودی آبادکاروں کو اپنے آبائی ممالک کی طرف الٹی نقل مکانی کرنا ہوئی اور ملک سے نکالے گئے فلسطینیوں کو اپنی سرزمین میں آنے کی اجازت دینا ہوگی۔ غرضیکہ صہیونی ریاست ختم ہو رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha