اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی نیم فوجی تنظیم سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو تحویل میں لے لیا ہے، جنہیں اسرائیل سے منسلک قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی امریکی اقدامات کے ردعمل میں کی گئی، جنہیں تہران سمندری مداخلت قرار دیتا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بحری دستوں نے تیز رفتار کشتیوں، نگرانی کرنے والے ڈرونز اور مقامی ریڈار نظام کی مدد سے ان جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور پھر انہیں روک لیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ان پر ہزاروں کنٹینرز لدا ہوا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جہازوں کی ملکیت اور کارگو سے متعلق دستاویزات کی جانچ جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں کسی بھی قسم کی فوجی یا سیکیورٹی کارروائی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کو بڑھا سکتی ہیں بلکہ خطے میں موجود دیگر فریقین کو بھی اس تنازعے میں مزید محتاط یا متحرک بنا سکتی ہیں۔
اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیج کے اس حساس علاقے میں طاقت کا توازن مسلسل بدل رہا ہے اور کسی بھی وقت صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ