اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اٹالوی اخبار کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے میلونی کے مؤقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے خیالات پر حیران ہیں۔ ان کے مطابق، اٹلی نے امریکہ کی جنگی پالیسیوں میں ساتھ دینے سے انکار کیا، جو ان کے لیے مایوس کن ہے۔
ٹرمپ نے مزید سخت لہجے میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے میلونی کا مؤقف خطرناک ہے، اور دعویٰ کیا کہ اگر حالات بگڑیں تو اٹلی کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پہلے میلونی کو ایک مضبوط اور بہادر رہنما سمجھتے تھے، لیکن اب ان کی رائے بدل چکی ہے۔
اسی گفتگو میں ٹرمپ نے ایک بار پھر پوپ لیو چهاردہم پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہیں ایران کی صورتحال کے بارے میں علم نہیں، اس لیے انہیں اس معاملے پر بات نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے عالمی سطح پر مختلف رہنماؤں کے بیانات اور مؤقف زیرِ بحث ہیں۔
آپ کا تبصرہ