اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ کارروائیاں جاری رہیں تو ایران سخت قدم اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیزفائر معاہدے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے حملے علاقائی استحکام کے لئے خطرہ ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ لبنان میں اسرائیلی دراندازی سیزفائر کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ عمل دھوکہ دہی اور معاہدوں کی عدم پاسداری کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کارروائیاں خطے میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ایرانی صدر نے سخت لہجے میں کہا: ’’صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان پر نئے حملے سیزفائر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ایسے اقدامات مذاکرات کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ ایران اپنے لبنانی بھائیوں اور بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا دو ہفتوں کا سیزفائر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں روکنا بھی شامل ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اس کی تردید کرتے ہیں۔ اس اختلاف نے نہ صرف سفارتی پیچیدگیاں بڑھا دی ہیں بلکہ سیزفائر کے ٹوٹنے کے خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج پوری طاقت، درستگی اور عزم کے ساتھ حملے کر رہی ہے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان سیزفائر معاہدہ نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں معمولی اختلاف بھی بڑے تصادم میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ