اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے جاری حالیہ فوجی سرگرمیوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں فضائی دفاعی صلاحیتوں کو فعال بنا کر اسرائیل کی فضائی برتری کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جاری معرکہ “العصف المأکول” کے دوران حزب اللہ نے بتدریج اپنے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیاروں اور دیگر دفاعی نظاموں کا استعمال بڑھایا ہے، جن کا بنیادی ہدف اسرائیلی ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کو نشانہ بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حزب اللہ کا مقصد روایتی معنوں میں مکمل فضائی برتری حاصل کرنا نہیں بلکہ اسرائیلی فضائیہ کے آپریشنز کو متاثر کرنا اور اس کے لیے خطرناک ماحول پیدا کرنا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت دشمن کے طیاروں کو زیادہ بلندی پر پرواز کرنے، کم وقت کے لیے مشن انجام دینے یا بعض حساس کارروائیوں سے گریز کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں متعدد اسرائیلی ڈرونز، جن میں جدید ہرمس 450 بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک ہیلی کاپٹر کو بھی سرحدی علاقے میں میزائل حملے میں نقصان پہنچا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی غیر روایتی جنگ کے اصولوں کے عین مطابق ہے، جہاں کم وسائل کے باوجود دشمن کی طاقت کو براہ راست ختم کرنے کے بجائے اس کی مؤثریت کو کم کیا جاتا ہے۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں اسرائیلی فضائیہ، جو اپنی برتری کو جنگی حکمت عملی کا اہم ستون سمجھتی ہے، اب ایک زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے، جس سے میدان جنگ میں طاقت کا توازن جزوی طور پر تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
آپ کا تبصرہ