اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار معاریو نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن کے جنگ میں شامل ہونے سے اسرائیل کو ایران کے مقابلے میں ایک نئے اور پیچیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یمن میں موجود انصارالله (حوثی) کی ممکنہ کارروائیاں اسرائیل کے لیے ایک “نیا محاذ” کھول سکتی ہیں، جو پہلے ہی ایران اور لبنان میں جاری لڑائی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔
اخبار نے لکھا کہ اسرائیلی فوج اس وقت بیک وقت دو محاذوں پر سرگرم ہے: ایران اور لبنان۔ لبنان میں حزبالله کی جانب سے روزانہ درجنوں راکٹ فائر کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کے خلاف بھی وسیع پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔
معاریو کے مطابق، اسرائیلی فوج کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آیا وہ یمن میں بھی مکمل کارروائی شروع کرے یا اپنی توجہ موجودہ محاذوں پر مرکوز رکھے۔ ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ اگر یمن پر حملے کے لیے طیارے بھیجے جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ایران اور لبنان کے محاذوں پر دستیاب فضائی قوت کم ہو جائے گی۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایران کی حکمت عملی ممکنہ طور پر یہی ہے کہ یمن کو جنگ میں شامل کر کے اسرائیل کے وسائل اور توجہ کو تقسیم کیا جائے، تاکہ مرکزی محاذوں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے، جہاں پہلے ہی متعدد فریقین کے درمیان تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ