بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس میں اپنی سالانہ تقریر میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کے حل کے لئے ان کی ترجیح سفارت کاری ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تہران ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہ کرے۔
ٹرمپ نے کہا: "کئی دہائیوں سے امریکی پالیسی واضح رہی ہے اور وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔"
انھوں نے ایران کی میزائل صلاحیتوں کے موضوع پر بھی روشنی ڈالی اور دعویٰ کیا کہ ایران ایسے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
نیز ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانیوں نے پہلے ہی ایسے میزائل بنا لئے ہیں جو یورپ اور امریکہ کے غیر ملکی اڈوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اب وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر کام کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے مڈنائٹ ہیمر نامی فوجی کاروائی میں، ایران کی سرزمین پر اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے اس حصے کے آخر میں دعویٰ کیا کہ فی الحال مذاکرات جاری ہیں اور ـ ان کے بقول ـ ایرانی فریق معاہدے کا خواہاں ہے، لیکن ابھی تک امریکہ کے کچھ مطالبات مکمل طور پر پورے نہیں ہوئے ہیں۔
رپورٹ کا خلاصہ:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کانگریس میں سالانہ تقریر کا خلاصہ، جس میں انہوں بین الاقوامی معاملات میں اپنی مبینہ کامیابیوں کا ذکر کیا:
ایران سے متعلق موقف:
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ ایران کے ایٹمی مسئلے کے حل کے لئے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ یہ یقینی بنائیں گے کہ تہران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انھوں نے ایران کی میزائل صلاحیتوں پر تشویش کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے "آدھی رات کا ہتھوڑا" نامی آپریشن میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کا خواہاں ہے لیکن امریکی مطالبات ابھی پورے نہیں ہوئے۔
آٹھ جنگوں کے خاتمے کا دعویٰ:
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 10 ماہ میں 8 جنگیں ختم کر دیں!
ان کا کہنا تھا کہ "غزہ جنگ، جنگ بندی معاہدے کے ذریعے ختم ہوئی، تمام قیدی واپس آ گئے، اور انہوں نے "امن کونسل" قائم کی ہے" لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو جارحیت جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور اسرائیل امریکی حمایت سے غزہ پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔
ٹرمپ نے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جنگ ختم کرانے کا بھی دعویٰ کیا، جبکہ وہاں اب بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں اور کل ہی دو ملکوں کی سرحد پر شدید جھڑپوں کی خبریں آئی ہیں۔
روس یوکرین تنازع
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس نویں جنگ کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ انھوں نے یوکرین جنگ کے ابتدائی ایام میں دعویٰ کیا تھا کہ "اگر وہ بائیڈن کے بجائے امریکہ کے صدر ہوتے تو یہ جنگ شروع ہی نہ ہوتی"، انھوں یہ بھی دعوی کیا تھا کہ "دوسرے دور میں صدر بنتے ہی یوکرین کی جنگ کا خاتمہ کریں گے"، لیکن اب جبکہ صدر امریکہ ہیں، یوکرین پر دباؤ ڈال کر اپنے لئے رعایتیں حاصل کر رہے ہیں۔، اور جنگ بدستور جاری ہے۔
انھوں نے نیٹو ممالک سے دفاعی اخراجات بڑھانے پر اتفاق کا تذکرہ ذکر کیا اور ابوظہبی اور جنیوا میں مذاکرات کے حوالے سے امن کی مثبت خبروں کا وعدہ کیا۔
وینزویلا کا تیل:
ٹرمپ نے وینزویلا کو "نیا شراکت دار" قرار دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ نے وہاں سے 80 ملین بیرل حاصل کیا ہے۔
انھوں نے اپنے عائد کردہ ٹیرفس پر سپریم کورٹ کے حکم امتناعی پر مایوسی کا اظہار کیا لیکن کہا کہ ٹیرفس کے متبادل ذرائع سے خزانے میں رقم آتی رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ