اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ بیت المقدس کی فضائیں ایک بار پھر اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھیں، جہاں پیر کی شام رمضان المبارک کی ساتویں شب غاصب اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ تمام تر رکاوٹوں اور سخت ترین اقدامات کو پامال کرتے ہوئے دسیوں ہزار فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں نمازِ عشاء اور تراویح ادا کی۔
مقدسہ ذرائع کے مطابق تقریباً 50 ہزار فرزندانِ توحید نے قبلہ اول میں رمضان کی ساتویں تراویح ادا کی، جبکہ غاصب اسرائیلی حکام کی جانب سے ماہِ صیام کے دوران ملک بدری اور مسجد سے دوری کی ظالمانہ پالیسیوں میں غیر معمولی شدت لائی گئی ہے۔
غاصب اسرائیلی حکام نے نمازیوں کے داخلے پر مزید کڑی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اور مقبوضہ مغربی کنارہ سے آنے والے متعدد شہریوں کو شہرِ مقدس میں داخل ہونے سے جبراً روک دیا گیا۔
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران غاصب اسرائیلی حکام نے گرفتاریوں اور ملک بدری کی اس سیاست کو تیز کر دیا ہے جسے وہ نام نہاد "احتیاطی تدابیر” کا نام دیتے ہیں، ساتھ ہی مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے داخلے پر پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں اور مسجد کے گرد و نواح میں رمضان کے استقبالیہ مظاہر پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔
امورِ قدس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام تر اقدامات مسجد اقصیٰ کے اندر ایک نیا جبری نقشہ مسلط کرنے کی کوشش ہیں، جس سے شہرِ مقدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو براہِ راست نقصان پہنچانے کی سازش کی جا رہی ہے۔
آج ہی کے روز غاصب اسرائیلی وزیرِ جنگ یسرائیل کاٹز نے ایک فوجی حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں مقبوضہ بیت المقدس کے پانچ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کو سنہ 2016ء کے انسدادِ دہشت گردی قانون کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا گیا ہے۔
غاصب اسرائیلی ریڈیو کے مطابق یہ فیصلہ براہِ راست سکیورٹی ایجنسی "شاباک” کی سفارش پر کیا گیا، جس نے یہ من گھڑت دعویٰ کیا ہے کہ یہ میڈیا پلیٹ فارمز تحریکِ حماس کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں تاکہ رمضان کے دوران قدس میں تناؤ پیدا کیا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ