3 فروری 2026 - 01:08
امام خامنہ ای نے ٹرمپ کا منصوبہ کیونکر خاک میں ملا دیا؟ + تصاویر

خوف موت کا بھائی ہے۔ جو قوم ڈر جاتی ہے وہ عزم و ارادہ کھو جاتی ہے اور دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے؛ یا لڑے بھڑے بغیر، میدان کو دشمن کی مرضی کے مطابق، اسی کے سپرد کر دیتی ہے۔

امام خامنہ ای نے ٹرمپ کا منصوبہ کیونکر خاک میں ملا دیا؟ + تصاویر

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

پہلا  نکتہ: "جب امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے کیپٹولیشن (Capitulation) کے خلاف تقریر کی اور آپؒ کو گرفتار کیا گیا اور جب آپؒ کو جلاوطن کیا جا رہا تھا، آپؒ کو لے لے جانی والی گاڑی سڑک سے ہٹ گئی اور قم میں نمک جھیل کی طرف چلی گئی۔ امامؒ نے بعد میں فرمایا تھا کہ 'میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن جب میں نے خود سے رجوع کیا تو دیکھا کہ میں نہيں ڈر رہا ہوں، وہ ڈر گئے تھے، لیکن میں نہيں ڈر رہا تھا۔"

امام خامنہ ای نے ٹرمپ کا منصوبہ کیونکر خاک میں ملا دیا؟ + تصاویر

دوسری طرف سابقہ مجرموں، گروہوں، بدمعاشوں اور غنڈوں کے نیٹ ورک بناتا ہے، صیہونیوں کی عملیاتی مدد سے اور اپوزیشن کے کٹھ پتلیوں کو میدان میں لا کر فتنے، بلوؤں اور سڑکوں پر دہشت گردانہ ہنگاموں کا عملیاتی انتظام کرتا ہے۔ پھر جیسے ہی کچھ گروہوں بشمول بازار کے لوگوں کی طرف سے معاشی احتجاج شروع ہوتا ہے، فسادات کا عملیاتی مرحلہ شروع کر دیتا ہے۔ ساتھ ہی "ہلاک" کے کلیدی لفظ کے ساتھ نفسیاتی اور پراپیگنڈہ مہم چلاتا ہے۔

دوسرا نکتہ: "مجھ سے ڈرو"۔ یہ وہ پیغام ہے جو بڑا شیطان ـ جس کی علامت ان دنوں 'ڈونلڈ ٹرمپ' ہے ـ دنیا والوں کے لئے ارسال کر رہا ہے۔ ٹرمپ اس سیاسی ـ نفسیاتی پیغام کے ارسال کے لئے اپنا نقشہ کئی محاذوں پر آگے بڑھا رہا ہے:

• ایک طرف کرنسی کی جنگ آگے بڑھاتا ہے تاکہ اقتصادی خلل ڈال سکے اور معاشی دباؤ کے ذریعے عوام کو حکومت سے ناراض کر دے۔

• دوسری طرف سابقہ مجرموں، گروہوں، بدمعاشوں اور غنڈوں کے نیٹ ورک بناتا ہے، صیہونیوں کی آپریشنل مدد سے اور بیرون ملک مقیم ایران دشمن اپوزیشن کے کٹھ پتلیوں کو میدان میں لا کر فتنہ اور سڑکوں پر دہشت گردی کا آپریشنل اور عملیاتی انتظام کرتا ہے۔ پھر جیسے ہی کچھ گروہوں ـ بشمول دکانداروں ـ کی طرف سے معاشی احتجاج شروع ہوتا ہے، فسادات کا عملیاتی (آپریشنل) مرحلہ شروع کر دیتا ہے۔ ساتھ ہی لفظ "ہلاک" (اور "ہلاکت") کے کلیدی لفظ کے ساتھ نفسیاتی اور پراپیگنڈہ مہم چلاتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ تخریب کاری کے محاذ کو آگے بڑھانے کے ساتھ ہی ہلاکتوں میں اضافے اور پورے پیمانے پر تشدد کا سلسلہ چلاتا ہے۔ ساتھ ہی تشہیراتی جنگ کے مرحلے میں فسادیوں کو مدد بھیجنے کی بات کرتا ہے۔ ماحول کے انتہائی شدید اور انتہاپسندانہ ہونے اور ایک سیاسی کاروائی اور سابق غنڈوں کی مہم کے دور کے بعد، وہ خطے میں جنگی بحری جہاز بھیجتا ہے اور اسلامی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری کرتا ہے۔ لیکن ان تمام منصوبہ سازیوں، میدان سازیوں اور سازشوں کا مقصد کیا ہے؟

تیسرا نکتہ: "مقصد، فریق مقابل میں 'انفعالیت (Passiveness)' پیدا کرنا اور لوگوں کو مفلوج کرنا تھا۔ معاشرے کا نفسیاتی، سیاسی اور عملی طور پر مفلوج اور خوفزدہ ہو کر میدان سے باہر ہونا، جو کہ قومی خوداعتمادی، حرکت اور فعال مزاحمت کے بالکل برعکس ہے۔ 'خوف موت' کا بھائی ہے۔ جو قوم ڈر جائے گی وہ میدان ہار جائے گی اور دشمن کے سامنے "تسلیم" ہو جائے گی، اور ہتھیار ڈآلے گی؛ یا لڑے بھڑے بغیر میدان کو مخالف کی مرضی کے مطابق چھوڑ دے گی یا اگر معاملہ فوجی جنگ تک بھی پہنچ جائے تو پھر بھی وہ اعتماد اور ثابت قدمی کے ساتھ میدان میں نہیں آ سکے گی اور نتیجتاً دشمن غالب آ جائے گا: "آج 'مستکبر مادی دنیا' کی تمام تر کوشش ہے کہ جہاں کہیں مزاحمت ہے، اسے غیر فعال کرکے کچل کر، تور دے۔ دشمن کے سامنے غیر فعال ہو جانا سب سے بڑی غلطی اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ دشمن کو دشمنی کے لحاظ سے شمار کرنا [سمجھنا اور مدنظر رکھنا] چاہئے؛ یعنی اس کے مقابلے میں، اسے حقیر نہ سمجھیں اور اس سے نمٹنے کے لئے تیار رہیں اور دفاع کریں؛ لیکن دشمن سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے، متاثر نہیں ہونا چاہئے اور اس کے سامنے غیر فعال نہیں ہونا چاہیے۔ دشمن، معاشروں کو، غیر فعال اور مفلوج کرنا چاہتا ہے۔" امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کا خطاب؛ مورخہ 7 مئی 1997ع‍

چوتھا نکتہ: 11 بہمن 1404ع‍ (یکم فروری 2026ع‍) کو جب دشمن کی فوجی دھمکی، ٹرمپ کی شیخیوں اور تشہیری-نفسیاتی جنگ اپنے عروج پر تھی اور یورپیوں کا سیاسی دباؤ بھی بڑھ گیا تھا، حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) خامنہ ای ہر سال کی طرح اس سال بھی حضرت امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے مزار پر تشریف لائے۔ اس تشریف آوری کا نتیجہ یہ ہؤا کہ سے ٹرمپ اور اس کے اتحادیوں نے جو کچھ ہفتوں میں تیار کیا تھا اور ناکام ہو گیا اور انہوں نے ایرانی معاشرے پر خوف و اضطراب کی فضا مسلط کرنے اور اپنے مخالف کو مفلوج اور غیر فعال کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی تھیں، وہ بنیادی طور پر لاحاصل ہوکر خاک ميں مل گئیں۔ عوامی حلقوں میں اس تشریف آوری کو وسیع پیمانے پر توجہ ملی، عالمی سطح پر اس کو ٹرمپ کی مکمل ناکامی سے تعبیر کیا گیا اور یوں دشمن کا یہ منصوبہ بھی ناکام ہو گیا۔

پانچواں نکتہ: "امریکیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر اس بار انہوں نے جنگ چھیڑی تو یہ علاقائی جنگ ہوگی۔" 2 فروری 2026ع‍ کو امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کا یہی مختصر جملہ، فوجی میدان میں امریکیوں کے منصوبے پر ایک بھاری دْھُرْمُٹ (Sledgehammer) کی کاری ضرب، تھا۔ رہبر انقلاب نے اس بار دشمن کے فوجی منصوبے اور اس کی نفسیاتی جنگ اور ابلاغیاتی ملحقات و منسلکات (Media annexure) کے "قلب" (اور مرکزے = نیوکلئس = Nucleus) کو نشانہ بنایا اور ٹرمپ اور اس کے جرائم پیشہ شراکت داروں کو ایک مضبوط اور سنجیدہ پیغام دیا اور وہ یہ کہ: اسلامی جمہوریہ ایران اپنی سرزمین کے اندر میدانی طاقت کے علاوہ آج ایک علاقائی طاقت بن چکی ہے۔ یہ طاقت اسلامی نظام کی تزویراتی گہرائی (Startegic Depth)، اسلامی ایران کی مذہبی اور انقلابی شناخت، اور اسلامی امت اور خطے کی قوموں میں رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی بے مثال حیثیت اور اثر و رسوخ سے سرچشمہ لیتی ہے۔ محور مقاومت اور انقلاب اسلامی سے وابستہ افراد کی جہادی صلاحیتیں اس تزویراتی گہرائی کی عملی (Practical) اور عملیاتی (Operational) توسیع سمجھی جاتی ہیں، جو ضرورت پڑنے پر "علاقائی جنگ" کی حکمت عملی کو دشمن کے لئے خوفناک اور ڈراؤنا خواب بنا دے گی۔

چھٹا نکتہ: اب وہ دشمن جو ایرانی رائے عامہ کو گھیرنے اور قید کرنے، اور ان کے دلوں میں خوف و بے حسی کا پیغام ڈالنے کے وہم میں مبتلا تھا اور فرعون کی طرح سب کو غلام اور اپنا تابع بنانا چاہتا تھا، واضح طور پر دیکھ رہا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے قائد و راہنما امام سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی ہمت اور تدبیر سے شکست کھا چکا ہے۔

"بے شک فتح محاذِ حق کی ہوگی" اگر [و بشرطیکہ] مؤمنین دل کی گہرائی سے اللہ کے وعدوں پر یقین رکھیں اور ولایت کی مکتب کے سائے میں راہ جہاد پر گامزن ہو کر اپنے فرائض انجام دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha