1 فروری 2026 - 13:25
حصۂ اول | امریکی سلطنت زوال پذیر ہے ٹرمپ کے سوشل میڈیا پیغامات ادراکی معذوری کا اظہار ہیں، پروفیسر گِریگ سائمنز

گِریگ سائمنز، سیاسی سائنسدان، کہتے ہیں کہ امریکی سلطنت زوال پذیر ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سلطنت عالمِی جنوب کے ممالک پر قابو پانے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش ترک کردے گی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو سیمینار کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔

ذیل میں، نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے سیاسی سائنسدان اور بنگلہ دیش کی "ڈیفوڈل انٹرنیشنل یونیورسٹی" (Daffodil International University) کے پروفیسر "گِریگ سائمنز" (Greg Simons) کی تقریر متن پیش کیا جا رہا ہے۔

گریگ سائمنز:

میرے مضمون کا عنوان ہے: "مغربی ایشیا میں پیکس امریکانا [امریکی امن] کا خاتمہ (The End of Pax Americana in West Asia)؛ عالمی جغرافیائی سیاسی ڈھانچے میں تبدیلیاں"۔ امریکہ کی طاقت اور اثر و رسوخ کے زوال کے تناظر کا مغربی ایشیا میں جائزہ لینے کے لئے، اسے ایک وسیع تر سیاق و سباق میں، خواہ تاریخی ہو یا جغرافیائی-سیاسی، سمجھنا ضروری ہے۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اس "شکست" کی جڑیں سرد جنگِ سرد میں بظاہر امریکی "فتح" میں پیوست ہوتی ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کہا جا سکتا ہے کہ [امریکہ میں] عقل سلیم اور حقیقت پسندی بتدریج ماند پڑ گئیں اور ان کی جگہ تکبر اور نظریاتی [آدرشوں Epics] کی پیروی نے لے لی۔ بات یہ ہے کہ امریکہ "خود" کو سرد جنگِ کا فاتح سمجھتا تھا۔ اس کا نظریہ یہ نہیں تھا کہ "دنیا" فاتح ہوئی ہے، بلکہ وہ خود کو کسی خاص قسم کی جنگ کا فاتح سمجھتا تھا۔ نتیجتاً، اس نے خود کو ناگزیر اور کرہ ارض پر واحد یک قطبی طاقت سمجھا۔ بین الاقوامی نظام میں نگرانی اور توازن کا کوئی میکانزم موجود نہیں تھا جو حقیقت پسندی کو ان کی سوچ اور رویۓ میں واپس لاتا۔

یہاں تک کہ اگر ہم سرد جنگ کے مکمل خاتمے سے پہلے کے دور پر واپس جائیں، تو دیکھیں گے کہ یہ توسیع پسندانہ عمل اور غرور و تکبر پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ یہ معاملہ 1990 اور 1991 کے سالوں سے ہی، پہلی عراق جنگ یا پہلی خلیجی جنگ کے آغاز کے ساتھ، واضح تھا۔ سوویت یونین امریکہ کے رویۓے کا مقابلہ یا اس پر قابو پانے کے قابل نہیں رہا تھا، کیونکہ سوویت یونین تحلیل کے دہانے پر تھا۔ جیسا کہ میں نے کہا، یہ مسئلہ نظریاتی عقائد اور سرکش غرور پر منتج ہؤا۔ یہ عقائد، واضح طور پر، فرانسس فوکویاما جیسے افراد میں دیکھے گئے جنہوں نے "تاریخ کے خاتمے" کا اعلان کیا۔ یہ "تاریخ کا خاتمہ" تاریخ کے جسمانی خاتمے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ دنیا نظریاتی راستے کے حتمی عروج کے نقطے پر پہنچ گئی ہے۔ یعنی دنیا کو امریکہ کی مطلوبہ سیاسی اور جغرافیائی-سیاسی شکل میں ڈھالنا اور اس ملک کے کنٹرول میں لانا تھا۔ لہذا، ہم مرکزی اور مشرقی یورپ میں دوسری دنیا کے اثرات کو پیچھے دھکیلنے کی تحریکوں کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیا اور دیگر مقامات پر اٹھنے والی تحریکوں کے گواہ ہیں۔

اگر ہم آگے بڑھیں، تو "امریکی سلطنت" کے نظریاتی اور جغرافیائی سیاسی حامیوں کی جانب سے نظریات کا ابھار دیکھتے ہیں، کیونکہ امریکہ واقعی ایک "سلطنت (Empire)" ہے؛ اپنی نوعیت میں ایک سلطنت ہے۔ خود برژینسکی، 1997 میں، اپنی کتاب "دی گرینڈ چیس بورڈ" میں ماضی کی سلطنتوں کے تجربات کی بنیاد پر اشارہ کرکے لکھتا ہے:

"امریکہ کے لئے ایک سلطنت بننے اور ایک سلطنت برقرار رکھنے کے لئے، تین جغرافیائی سیاسی اسٹریٹجک ضرورتوں کو یقینی بنانا چاہئے:

* ماتحت [حمایت یافتہ] ریاستوں کو محفوظ اور فرمانبردار رکھنا؛

* کٹھ پتلی ریاستوں کو وابستہ اور فرمانبردار رکھنا؛ اور

* ایسی طاقتوں یا 'طاقت کے بلاکس' کو ظہورپذیر نہ ہونے دینا، جو امریکی بالادستی کو چیلنج کر سکیں۔"

لہٰذا، ہم نے مرکزی اور مشرقی یورپ، سابق سوویت یونین کی رکن ریاستوں میں، نام نہاد "رنگین انقلابات" کی لہر دیکھی، اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم نے مغربی ایشیا میں، نام نہاد "عربی بہار" کی تحریکوں کا مشاہدہ کیا۔

یہاں ایک اور نکتہ بھی قابل ذکر ہے: اس نظریئے کے فروغ اور ان آزاد و خودمختار کھلاڑی بننے کے لئے کوشاں طاقتوں کو کمزور کرنے، قابو میں لانے اور ان کا تختہ الٹنے ـ میں معلومات اور خبروں [میڈیا] کا کردار بہت اہم تھا؛ ـ جو وہ بین الاقوامی تعلقات میں فعال کھلاڑی بننا چاہتی ہیں، نہ کہ منفعل [غیر فعال] کھلاڑی۔ مثال کے طور پر، "عربی بہار" کا خود یہ عنوان ایک جعلی تضاد ہے جس سے عیاں ہوتا ہے کہ یہ تصور اور یہ عنوان مغربی ایشیا کے سامعین کے لئے نہیں، بلکہ معتدل علاقوں جیسے یورپ اور شمالی امریکہ میں رہنے والے سامعین کے لئے بنایا گیا ہے۔ کیونکہ ایک مصری محقق کے بقول، "ہم عربوں کے لئے بہار کیا ہے؟ یہ ایک مختصر موسم ہے جس میں تیز آندھیاں چلتی ہیں اور ریت کے طوفان اٹھتے ہیں۔" یہ بہت ناگوار تصور ہے۔ جبکہ بہار شمالی امریکہ اور یورپ کے لوگوں کے لئے بہت زیادہ خوشگوار تصور ہے۔ چنانچہ یہ نام خود ہی، نفسیاتی جنگ کے فریم ورک میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ نفسیاتی جنگ اس تصور پر انتہائی منحصر ہے جسے ایک ادراکی [اور فکری]-نفسیاتی "بجلی کا کڑکا" قرار دیا جا سکتا ہے؛ یعنی ان لوگوں پر معلومات اور خبروں کا ہجوم اور غلبہ، جو اپنی قوم کی خودمختاری اور سالمیت کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ پیچیدہ مکر و فریب اور بہت زیادہ دباؤ کے ذریعے ہوتا ہے، اس لئے کہ وہ ماحول کو [بیانِ معلومات کے بیان کرنے کی روشنی میں] نظام [اور ترتیب Order] کو واضح کرنا چاہتے ہیں۔ اس نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں مزاحمت کرنا قلیل مدت میں مشکل ہے، لیکن طویل مدت میں آسان ہے۔ قلیل مدت میں، فرد اس نفسیاتی جنگ کے خلاف غیر فعال اور محض تعاملی (Reactive) بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، مصر اور شام میں ابتدائی کامیابیوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ یہ قلیل المدت کامیابیاں تھیں، جبکہ طویل مدت میں، یہ طریقے کم مؤثر رہے؛ خاص طور پر اگر فیصلہ سازی کے نظام کی یکجہتی برقرار رہے اور سیاسی اور عسکری قیادت چوکنا اور عقل و منطق کے مطابق، رہے۔

ایسے نظام کا مقابلہ کرنا زیادہ مشکل ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ مثال کے طور پر شامی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے وہ مختلف نسلوں اور مذاہب کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ تمام گروہ متحد ہوتے تو اس ملک میں حکومت کی تبدیلی بہت مشکل ہو جاتی۔ خبروں اور معلومات کی یہ طاقت "دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ" میں بھی اہم کردار ادا کرتی تھی۔ اگرچہ یہ جنگیں مغربی ایشیا میں "امریکی امن" کے خاتمے کے بڑے عوامل میں سے ایک تھیں، لیکن اس [نفسیاتی اور معلوماتی جنگ] نے قلیل مدت میں، افغانستان اور عراق پر غیر قانونی حملوں اور اس کے نتیجے میں لیبیا، شام وغیرہ جیسے بہت سے دیگر علاقائی کاروائیوں کی راہ ہموار کر دی۔

لیکن اگر ہم سن صفر، یعنی راستے کے آغاز پر نظر ڈالیں، یعنی 2001ع‍ ـ تھا، تو سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا نتیجہ اب کیسا نظر آتا ہے؟ اگر ہم براؤن یونیورسٹی سے وابستہ واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے "وار کاسٹ پروجیکٹ" کے اعداد و شمار کا حوالہ دیں، تو دہشت گردی کا اشاریہ 13 سالوں میں صفر فیصد سے 6500 فیصد تک بڑھ گیا۔ ان اعداد و شمار کو دیکھ کر، ہم ظاہری [جعلی] اور حقیقت کو دیکھ سکتے ہیں؛ اور یہ صورت حال آج بھی جاری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ قلیل مدتی اور تاکتیکی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں، لیکن طویل المدت اسٹراٹیجک نقصانات اور کمزوریاں پیدا ہو گئی ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہم عراق پر مکمل اور غیر قانونی فوجی حملے اور قبضے پر نظر ڈالیں، تو امریکیوں نے قلیل مدت میں سوچا کہ انہوں نے اس جنگ سے فائدہ اٹھایا ہے، لیکن طویل مدت میں، ایران اور عراق ایک دوسرے کے قریب آ گئے، کیونکہ اب ان کا دشمن اور انہیں درپیش خطرہ مشترکہ ہے اور اس نے امریکہ کی سلامتی کو تقویت نہیں پہنچائی؛ بلکہ نئی کمزوریاں پیدا کر کے خطے میں ان کی سلامتی کمزور کر دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha