اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں پرامن احتجاج اور عوامی مطالبات کا اظہار ایک قانونی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قیادت، بشمول صدر مملکت، عوام کی بات قانون کے دائرے میں سننے پر زور دیتی رہی ہے۔
ایران میں بھارتی شہریوں یا بھارت کے مفادات کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور ملک میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ یہ بات بھارت میں ایران کے سفیر محمد فتح علی نے منگل کو اے این آئی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ ان کا یہ بیان بھارتی وزارت خارجہ (MEA) کی جانب سے ایران میں جاری احتجاج کے پیش نظر بھارتی شہریوں کے لیے سفری ایڈوائزری جاری کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے پیش نظر بھارتی شہری غیر ضروری سفر سے فی الحال گریز کریں۔ ایم ای اے نے کہا، ’’بھارتی شہریوں کو اگلے احکامات تک اسلامی جمہوریہ ایران کا غیر ضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔‘‘
بھارتی برادری کی سلامتی اور بھارتی مفادات کے تحفظ سے متعلق سوال پر ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران میں عوامی نظم و نسق برقرار ہے اور حالات کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارتی، معاشی اور قونصلر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ محمد فتح علی نے کہا ’’میں پورے اعتماد کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ایران میں مقیم بھارتی شہریوں کو، جیسے دیگر ممالک کے شہریوں کو، کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔‘‘
ایران میں بے چینی کا آغاز 28 دسمبر کو تہران میں ہوا، جو طویل معاشی بحران کے باعث عوامی بے چینی کا نتیجہ تھی۔ حالیہ دنوں میں یہ احتجاج بعض مقامات پر پرتشدد شکل اختیار کر گئے ہیں، تاہم ایرانی حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں پرامن احتجاج اور عوامی مطالبات کا اظہار ایک قانونی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قیادت، بشمول صدر مملکت، عوام کی بات قانون کے دائرے میں سننے پر زور دیتی رہی ہے۔
محمد فتح علی نے الزام عائد کیا کہ بعض غیر ملکی میڈیا ادارے اور بیرونی عناصر صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور گمراہ کن بیانیہ پھیلا کر کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’کچھ میڈیا اداروں میں شائع ہونے والی رپورٹس زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں بلکہ یہ مبالغہ آرائی، میڈیا پروپیگنڈا اور جانبدارانہ رپورٹنگ کا نتیجہ ہیں۔‘‘
امریکی رہنماؤں کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی حمایت میں دیے گئے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ اس طرح کے بیانات ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق داخلی مسائل کو سیاسی دباؤ اور میڈیا جنگ کا ذریعہ بنانا ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
ایم ای اے نے ایران میں موجود بھارتی شہریوں اور اوورسیز انڈینز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں، احتجاجی علاقوں سے دور رہیں اور تہران میں بھارتی سفارت خانے کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری ہدایات پر نظر رکھیں۔ وزارت خارجہ نے ایران میں رہائشی ویزا پر مقیم بھارتی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اگر پہلے سے رجسٹرڈ نہیں ہیں تو بھارتی سفارت خانے میں اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں۔
آپ کا تبصرہ