بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || العربیہ سے بات کرنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا تھا۔
ابو ظبی نے کہا تھا کہ وہ سعودی خودمختاری اور قومی سلامتی کا مکمل احترام کرتا ہے اور کسی ایسے اقدام کو مسترد کرتا ہے جو سعودی عرب یا خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔ امارات نے زور دیا تھا کہ ریاض کے ساتھ اس کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات علاقائی استحکام کی بنیاد ہیں اور دونوں ممالک مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
ایس ٹی سی کی پسپائی اور امارات کے سرکاری بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب نے المکلا بندرگاہ میں ایس ٹی سی کے لئے امارات سے آنے والے فوجی سازوسامان پر شدید بمباری کی جس کے بعد اس سے وابستہ ایس ٹی سی کی فورسز کی مسلسل جارحانہ کاروائیوں کا سلسلہ رک گیا اور اس نے پسپائی اختیار کی۔
امارات نے اس سے پہلے بھی کئی بار یمن سے پسپائی کا اعلان کیا ہے لیکن بعد میں معلوم ہؤا ہے کہ سوڈان، صومالیہ اور لیبیا کی طرح یمن میں بھی اس کی اسرائیل نواز پالیسیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ امارات نامی ریاست اور اس کی خارجہ پالیسی کا کوئی بھی قومی مقصد نہیں ہے بلکہ وہ صرف اور صرف صہیونی ریاست کے ایک شعبے کے عنوان سے سرگرم عمل ہے اور 'عظیم تر اسرائیل' کی تشکیل میں تل ابیب کی معاونت کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ