2 مئی 2013 - 19:30
دھشتگردی اور اسلام

اس طرح کے اعمال اسلام میں ہمیشہ سے ممنوع رہے ہیں اور ان کے مرتکب ہونے والوں کے لیے اسلام نے سخت سے سخت سزائیں مقرر کی ہیں۔ البتہ یہ بات مدنظر رہے کہ قرآن کریم میں چند مقامات پر کلمہ "ارھاب" کہ جو موجودہ عربی زبان میں ٹروریزم کے معنی میں لیا جاتا ہے استعمال ہوا ہے لیکن قرآن میں اس کے معنی خدا سے ڈرنے اور خوف کھانے کے ہیں۔ مثال کے طور پر اس آیت " (وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّة وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّاللّهِ.) (انفال: 60) میں کلمہ ارھاب اللہ کے دشمنوں کو ڈرانے کے معنی میں ہے اور یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض اوقات اس کی سفارش بھی کی گئی ہے اور وہ اس وقت جب کفار اور مشرکین جو مسلمانوں کے ساتھ ہم پیمان ہیں خیانت اور غداری کا ارادہ رکھتے ہوں کہ اس صورت میں کفار کو ڈرانا نہ صرف جائز ہے بلکہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کی دلیل اسی سورہ کی دوسری آیت ہے جو اس کے بعد ذکر ہوئی ہے ( و ان جنحوا للسلم فاجنح لھا) (انفال،۶۱) اوراگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تم بھی ان کی طرف بڑھو۔

ابنا:   ۱۹۹۱ میں سوویت ریپبلیکس یونین (Soviet Republics Union) کا شیرازہ بکھرنے کے ساتھ وہ امریکہ، جس کااس زمانے تک واحد رقیب سوویت یونین تھا اور امریکہ اپنی تمام تر اندرونی اور بیرونی مشکلات کو آسانی سے اس یونین کی گردن پر ڈال کر اپنا شانہ خالی کر لیتا تھا اس اعتبار سے، ایک طرف سے امریکہ کے  اعتراض کرنے والے شہریوں اور دنیا کی سادہ لوح عوام الناس کو اپنی ناکارہ حکومت اور سیاست کے سامنے خاموش رکھنے اور ان کی زبان اعتراض کو بند کرنے کے لیے سوویت یونین کی طاقت کا بہانہ بنا لیتا تھا اور دوسری طرف سے سوویت کمونیزم کو دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے کر اپنے ہم پیمان ممالک کو متحد بنانے کا حربہ استعمال کرتا تھا اس سوویت یونین کے ختم ہونے کے بعد بین الاقوامی طور پر امریکہ اب کسی کو اپنا رقیب اور دشمن نہیں پیش کر سکتا تھا تاکہ اپنی نالائقیوں کو اس کی گردن پر ڈال کر اپنا شانہ خالی کر کے دنیا کے بڑے ممالک کو اپنے ساتھ لے کر چل سکے اور اپنی بڑھائی اور سوپر پاور ہونے کو ثابت کر سکے۔ در حقیقت امریکہ ایک پرامن فضا میں اپنے مقاصد تک نہیں پہنچ سکتا تھا لہذا اس طرح کی فضا کا ایجاد کرنا دنیا میں اس کے نفع میں تھا اس لیے کہ وہ اپنے جنگی ساز و سامان اور فوجی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی دنیا کے اقتصاد پر اپنا قبضہ جما سکتا ہے اور اس طریقے سے وہ دنیا میں ایک سپر پاور طاقت شمار ہو سکتا ہے۔اس وجہ سے سوویت یونین کے پاش پاش ہونے کے بعد امریکہ مکمل طور پر اس تلاش و کوشش میں تھا کہ دنیا میں ایک اور طاقت اپنے رقیب کے طور پر وجود میں لائی جائے گر چہ وہ فرضی ہی کیوں نہ ہو۔ لہذا اس میدان میں امریکہ زدہ بین الاقوامی سیاستمدار کہ جو CIA  کے ساتھ منسلک ہیں امریکی اہداف کے حصول کی خاطر فرضی دشمن سازی کرتے ہیں۔ Samuel p Huntington  ان اہم افراد میں سے ایک ہے جو امریکہ کے خارجی سیاستمداروں میں سے شمار ہوتا ہے۔وہ دنیا کے تاریخی مسائل پر غور و فکر کرنے کے بجائے امریکہ کی سیاسی اور اقتصادی پالیسوں کے نغمے گاتا ہے اس نے ایک نظریہ "تمدنوں کے ساتھ رفتار" کے عنوان سے پیش کیا اور اس کےبارے میں ایک کتاب بھی تحریر کی۔ وہ اس کتاب میں کوشش کرتا ہے کہ مشرقی تمدن مخصوصا اسلامی تمدن کو مغرب کا دشمن ثابت کرے۔ لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد اس کی یہ لاعلمی بے نقاب ہو گئی اور عدم واقعیت پر مبنی محفلیں بے رونق ہو گئیں اور دنیا کے علمی مراکز اور شخصیات نے اس کے نظریات کا استقبال کرنا چھوڑ دیا۔ اس کے بعد امریکی سیاستمدار اور نظریہ پرداز اس کوشش میں لگ گئے کہ اس نظریہ کو مہفومی دنیا سے نکال کر عینی اور خارجی دنیا میں لائیں۔ اور عملی طور پر اسلامی تمدن کو  مغرب کا دشمن ثابت کریں۔ اسی وجہ سے ۱۱  ستمبر کے واقعہ کا نقشہ کھینچا اور دنیا کے سامنے ٹروریزم نام کا ہوّا پیش کیا اور اس سے باخبر رہنے کا اعلان کر دیا اور پوری دنیا کو اس کا  مقابلہ کرنے کی دعوت دی۔اور اس کے بعد سے ہر آئے دن ایک نہ ایک حادثہ ٹروریزم کے نام پر وجود میں لایا جاتا ہے۔ دلچسب تو یہ ہے کہ ٹروریزم اور پوری دنیا میں بد امنی پھیلانے والے گروپ کو کتاب "تمدنوں کے ساتھ رفتار" میں مسلمانوں کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور وہ اس بات کے دعویدار ہیں کہ اسلامی تعلیم ہی در حقیقت ٹروریزم کی تعلیم ہے اور اسلامی اداروں میں اس کی ترویج ہوتی ہے۔ ہم اس مقالہ میں یہ کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ ٹروریزم کو اسلام کے اندر تلاش کریں اور یہ تحقیق کریں کہ کیا ٹروریزم کا اسلام سے کوئی ربط ہے؟ٹرور کا مفہومکلمہ "ٹرور" فرانسوی زبان کا کلمہ ہے جس کے معنی ڈر اور وحشت کے ہیں۔ ٹروریزم کی کوئی جامع تعریف کرنا کہ جس سے اس کے تمام پہلو سامنے آجائیں بہت مشکل ہے۔ سازمان ملل ۱۹۷۲ سے ۱۹۷۹ تک اس کلمہ کی جامع تعریف پیش کرنے کی بھر پور کوشش انجام دیتی رہی ہے لیکن اس کی یہ تمام ترکوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور ٹروریزم کے لیے کوئی جامع تعریف نہیں پیش کر سکی۔ لیکن اس کے باوجود اس موضوع کی اہمیت کی وجہ سے بعض لغت کی کتابیں اس کلمہ کی تعریف کرنے میں آگے بڑھی ہیں۔ ڈکشنری" فرہنگ دھخدا" اس کلمہ کے بارے میں لکھتی ہے: " ٹرور موجودہ دور میں رائج عربی کے لفظ " ارہاب " اور " اغتیال" کے مترادف استعمال ہوتا ہے۔دوسری جگہ آیا ہے : ٹرور لغت میں وحشت اور خوف کے معنی میں آیا ہے۔ اور اصطلاح میں اسلحہ کے ساتھ سیاسی قتل کو ٹروریزم کہتے ہیں اور اس کے فاعل اور مرتکب ہونے والے کو ٹروریسٹ کہا جاتا ہے اس تعریف میں اسلحہ کے ذریعے سیاسی مقصد کی خاطر قتل کو ٹروریزم کہا گیا ہے  اس بنا پر ٹرور سے مراد ہر طرح کا قتل و غارت اور خون خرابہ نہیں ہے۔ "ٹرورسٹی حکومت " پہلی بار سن ۱۷۹۳ میں فرانس کے اندر وجود میں آئی اس کے بعد یہ کلمہ سن ۱۷۹۶ میں فرانسوی لغات میں " وحشت انگیز نظام" کے معنی میں درج ہو گیا۔ اس کے بعد یہ کلمہ دوسری کتابوں کی طرف بھی سرایت کر گیا۔ ایک انگریزی ڈکشنری اس لفظ کی تعریف میں لکھتی ہے: ٹروریزم عبارت ہے: حکومتی اور غیر حکومتی تلاش و کوششیں جو وحشیانہ انداز میں اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرتی ہیں۔ اس تعریف میں ٹروریزم کی تعریف کا اصلی معیار "وحشیانہ اور ظالمانہ روش کو اپنانا ہے اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر"۔ ایک اور انگریزی لغت کے اندر اس کی تعریف میں وحشیانہ روش کو سیاسی حکومت کی تبدیلی کی خاطر استعمال کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس تعریف میں واضح ہوا ہے کہ ٹروریزم یہ ہے کہ کسی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے یا معاشرے میں کوئی سیاسی یا سماجی تغیر و تبدل پیدا کرنے کے لیے دہشت کا ہتھیار استعمال کیا جائے۔اسلامی کانفرانس ادارہ ٹروریزم کی تعریف میں یوں بیان کرتا ہے: اصطلاح ٹروریزم ہر طرح کے دہشت گردانہ عمل پر اطلاق ہوتا ہے جو انفرادی یا اجتماعی مجرمانہ اہداف کو حاصل کرنے کی خاطر لوگوں میں رعب و دبدبہ ایجاد کیا جاتا ہے یا انہیں نقصان پہنچانے یا ان کی جان ، مال اور عزت و آبرو کو خطر ے میں ڈالنے، ان کی آزادی چھیننے  اور ان کے حقوق پامال کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اس تعریف کی بنا پر ٹروریزم ہر اس دہشت گردانہ اقدام کو کہا جاتا ہے جو قطع نظر اس کے اہداف کے لوگوں کو دہشت میں ڈالنے کی خاطر انجام دیا جاتا ہے اور لوگوں کی جانوں یا ان کے امن و سکون کو صدمہ پہچنانے یا ان کے خصوصی یا عمومی اموال کو غارت کرنے کی خاطر انجام دیا جاتا ہے۔بہر حال ٹروریزم کا اصلی اور بنیادی شاخص اور اس کی علامت کہ جس پر تمام اہل نظر متفق ہیں یہ ہے کہ ٹروریزم ایسا طے شدہ جرم ہے جو دہشت اور وحشت پھیلانے کے لیے انجام دیا جاتا ہے، جو لوگوں کے درمیان سیاسی مفاد کو حاصل کرنے کی خاطر رعب اور دبدبہ پیدا کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر ہر طرح  کا غیر قانونی اور غیر شرعی اقدام جو لوگوں کی زندگی میں خلل پیدا کرنے اور دہشت پھیلانے کی غرض سے انجام دیا جاتا ہے ٹرور کہلاتا ہے۔ٹرور اور دہشت گردی اسلامی منابع میںشیعہ فقہی منابع اور کتب میں " ٹرور" نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ لیکن کچھ ایسے عناوین پائے جاتے ہیں جو تقریبا اس کے مترادف معنی رکھتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں ٹرور ان کا مصداق ہے۔ اس طرح کے اعمال اسلام میں ہمیشہ سے ممنوع رہے ہیں اور ان کے مرتکب ہونے والوں کے لیے اسلام نے سخت سے سخت سزائیں مقرر کی ہیں۔ البتہ یہ بات مدنظر رہے کہ قرآن کریم میں چند مقامات پر کلمہ "ارھاب" کہ جو موجودہ عربی زبان میں ٹروریزم کے معنی میں لیا جاتا ہے استعمال ہوا ہے لیکن قرآن میں اس کے معنی خدا سے ڈرنے اور خوف کھانے کے ہیں ۔ مثال کے طور پر اس آیت " (وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّة وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّاللّهِ.) (انفال: 60) میں کلمہ ارھاب ڈرانے کے معنی میں ہے اور یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض اوقات اس کی سفارش بھی کی گئی ہے اور وہ اس وقت جب کفار اور مشرکین جو مسلمانوں کے ساتھ ہم پیمان ہیں خیانت اور غداری کا ارادہ رکھتے ہوں کہ اس صورت میں کفار کو ڈرانا نہ صرف جائز ہے بلکہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کی دلیل اسی سورہ کی دوسری آیت ہے جو اس کے بعد ذکر ہوئی ہے ( و ان جنحوا للسلم فاجنح لھا) (انفال،۶۱) اور وہ صلح کی طرف بڑھیں تو تم بھی ان کی طرف بڑھو۔ البتہ جیسا کہ بیان کیا گیا اس آیت کا اصطلاحی ارہاب یعنی ٹروریزم کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے۔ اور یہ آیت ہماری بحث سے بھی مربوط نہیں ہے اس کے لیے ایک مستقل گفتگو کی ضرورت ہے۔ سورہ اعراف کی نویں آیت میں بھی یہ کلمہ اسی معنی میں سحر اور جادو کے سلسلے میں استعمال ہوا ہے سورہ بقرہ کی دسویں آیت میں بھی یہ کلمہ " ارھاب" بنی اسرائیل کے بارے میں آیا ہے جس کے معنی ہیں خدا سے خوف رکھنا۔البتہ مذکورہ آیات میں سے کسی ایک آیت میں بھی اصطلاحی ٹروریزم کا حکم بیان نہیں ہوا ہے۔ اور نہ ہی اس کا حکم ان آیات سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ لہذا اس مسئلہ کی زیادہ وضاحت کے لیے فقہی کتب میں بیان شدہ دوسرے عناوین کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ اس موضوع کو بہتر انداز میں واضح کرنے کے لیے اسے دو مرحلوں میں تقسیم کرتے ہیں: پہلے مرحلے میں،انسان کی جان و مال کی حرمت اور اس کی بزرگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں کہ اسلام میں انسان کی جان و مال کی کتنی زیادہ اہمیت و قیمت ہے۔ یہاں تک کہ اسلام کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دیتا کہ اس اصل کے اندر ذرہ برابر بھی خدشہ وارد کیا جائے انسانوں کی جانوں اور ان کے اموال کو صدمہ پہچانا اور انہیں تھدید کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ دوسرے مرحلہ میں روایات اور فقہا کی کتابوں کے اندر بیان شدہ عناوین جیسے " محاربہ، فتک، اور غدر" وغیرہ کہ ٹرور جن کا ایک مصداق ہے بیان کیا جائے گا۔۱: انسان کی کرامت اور بزرگیقرآن کریم کی نص صریح کی مطابق، خدا وند عالم نے اولاد آدم کو ذاتی طور پر کرامت اور بزرگی عطا کی ہے۔ (وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَ حَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَي كَثِير مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلا) (اسراء: 70) اور ہم نے انسان کو کرامت عطا کی ہے اور انہیں خشکی اور دریاؤں میں سواریوں پر اٹھایا ہے اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سوں پر فضیلت دی ہے۔اس آیت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ تمام انسان، ہر رنگ و نژاد، ہر طبقہ اور نسل رکھنے والے خدا کے ہاں قابل احترام ہیں۔ اور دوسری تمام مخلوقات پر برتری  رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے خدا وند عالم نے اس برتر موجود کو خلق کرنے کے بعد ملائکہ کو سجدے کا حکم دیا اور شیطان نے جب سجدے سے انکار کیا تو خدا نے اس سے پوچھا (مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ)(ص: 75) کس نے تجھے منع کیا ہے سجدہ کرنے سے اس کے آگے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے خلق کیا ہے۔ یہ تعبیر بتا رہی ہے کہ انسان نہایت گرانقدر موجود ہے جس کے لیے خدا نے یہ فرمایا "خلقت بیدیّ" دونوں ہاتھوں کی تعبیر اس کے خصوصی احترام کی دلیل ہے۔ اس کرامت اور بزرگی کا لازمہ " حق سلامتی " ہے یعنی انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امن و امان کےساتھ ز