اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے 33 روزہ جنگ کی 20ویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ 2006 کی جنگ نے ثابت کیا کہ اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ 14 اگست 2006 کو ختم ہونے والی 33 روزہ جنگ لبنان پر اسرائیلی حملے کے خلاف مزاحمت کی یاد دلاتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نے ابتدا میں حزب اللہ کے ہاتھوں اپنے دو فوجیوں کی گرفتاری کو حملے کی وجہ بتایا، تاہم جنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ صرف سفارتی رابطوں اور مذاکرات سے اسرائیلی دباؤ کا مقابلہ ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی کوششوں کے باوجود اسرائیلی جیلوں میں قید لبنانی شہریوں کی رہائی ممکن نہ ہو سکی، اسی لیے مزاحمت کے لیے جنگ کا راستہ اختیار کرنا ضروری سمجھا گیا۔
حزب اللہ کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کو شکست ہوئی اور اس کے نتیجے میں لبنانی قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کی رہائی کا راستہ ہموار ہوا۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل اس جنگ کے ذریعے لبنان کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہے تھے، جسے مزاحمت نے بروقت کارروائی کرکے ناکام بنا دیا۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنان میں ’’فوج، عوام اور مزاحمت‘‘ کے مشترکہ کردار نے اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی امریکہ کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔
ان کے مطابق 2006 کی جنگ نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کیا اور اسرائیل کے خلاف طویل مدتی دفاعی توازن پیدا کیا۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے ’’نئے مشرق وسطیٰ‘‘ کے تصور کو بھی 33 روزہ جنگ کی کامیابی سے ناکام قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بعد کے برسوں میں حزب اللہ کو بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں اہم رہنماؤں اور کمانڈروں کی ہلاکت بھی شامل ہے، تاہم ان کے بقول اس کے باوجود مزاحمت کی تنظیمی صلاحیت اور ارادہ ختم نہیں ہوا۔
حزب اللہ کے سربراہ نے لبنانی حکومت پر اسرائیلی خلاف ورزیوں کے مقابلے میں کمزور موقف اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل مسلسل لبنان کی سرزمین پر کارروائیاں، گھروں کی تباہی اور جنوبی علاقوں میں زمینوں پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان غیر جانب دار ثالث سمجھنا درست نہیں، کیونکہ واشنگٹن اور تل ابیب ایک ہی جانب کھڑے ہیں۔
شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کے موجودہ طریقہ کار کی ناکامی کو تسلیم کرے اور قومی اتحاد کے ساتھ ایک مضبوط موقف اختیار کرے۔
شیخ نعیم قاسم نے واضح کیا کہ حزب اللہ لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی، اسرائیلی فوج کی موجودگی اور امریکی سرپرستی کو قبول نہیں کرے گی۔
ان کے مطابق لبنان کو اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے مزاحمت اور عوام کے تعاون پر انحصار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔
انہوں نے جنوبی لبنان کی تعمیرِ نو اور بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کو فوری ترجیح قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
آپ کا تبصرہ