اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نبیہ بری نے انصار اور دیرالزہرانی پر صہیونی جنگی طیاروں کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں علاقوں میں اسرائیلی طیاروں کے ہاتھوں کیے گئے قتل عام، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے متعدد افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے، شہید ہوئے، نسل کشی کی جنگ کے تسلسل کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی قتل و غارت اور تباہی کی مشینری جنوبی لبنان کے عوام، ان کے گھروں، تاریخی ورثے اور زندگی سے جڑی ہر چیز کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے زور دے کر کہا کہ یہ حملے واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ صہیونی حکومت کی سیاسی اور فوجی قیادت لبنان اور خطے میں جنگ و کشیدگی کے خاتمے کے لیے کیے گئے کسی بھی معاہدے، قانون اور بین الاقوامی و علاقائی کوششوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔
اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں قومی اتحاد کی اپیل
نبیہ بری نے انصار، دیرالزہرانی، المنصوری اور نبطیہ کے علاقے کے دیگر دیہات پر اسرائیلی حملوں کو تمام لبنانیوں، بالخصوص مختلف سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کے لیے ایک ایسی پکار قرار دیا جس پر خواتین اور بچوں کے خون کی مہر ثبت ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی جارحیت، اس کے نتائج اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ قومی نقطۂ نظر سے لیا جائے اور اسے علاقائی، فرقہ وارانہ یا جماعتی مفادات سے بالاتر رکھا جائے۔
بری نے کہا کہ موجودہ صورتحال لبنان میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کا تقاضا کرتی ہے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مذاکرات اور جنگ بندی کے معاہدوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اس جنگ کو روکنے کے لیے، جسے انہوں نے نسل کشی کی جنگ قرار دیا، دیر ہونے سے پہلے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
آپ کا تبصرہ