15 اگست 2026 - 17:20
فرانسیسی اخبار لوموند: ایران کے خلاف جنگ کے بدلتے اہداف نے امریکی ناکامی بے نقاب کردی

رپورٹ کے مطابق اس بحری جہاز کے عملے کے بعض اہل خانہ نے واش رومز کی خرابی، غسل خانوں میں پھپھوندی، واشنگ مشینوں کی طویل عرصے سے جاری خرابی اور گرم پانی کی عدم دستیابی کی شکایت کی ہے۔ رپورٹ میں امریکی بحری اہلکاروں کی ذہنی صحت اور مسلسل کام کے باعث ان کی تھکن اور فرسودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فرانسیسی اخبار لوموند نے خطے میں امریکی فوجیوں کی مشکل صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کی صورتحال پر رپورٹ شائع کی ہے، جو آٹھ ماہ سے زائد عرصے سے اپنے مشن پر موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس بحری جہاز کے عملے کے بعض اہل خانہ نے واش رومز کی خرابی، غسل خانوں میں پھپھوندی، واشنگ مشینوں کی طویل عرصے سے جاری خرابی اور گرم پانی کی عدم دستیابی کی شکایت کی ہے۔ رپورٹ میں امریکی بحری اہلکاروں کی ذہنی صحت اور مسلسل کام کے باعث ان کی تھکن اور فرسودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

لوموند کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے جنگ، جانی نقصانات اور تباہی سے متعلق معلومات کو بڑی حد تک عوام اور امریکی کانگریس سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔

فرانسیسی اخبار نے جنگ کے اعلان کردہ اہداف میں بتدریج تبدیلی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدا میں ایران میں مظاہرین کی حمایت، پھر ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا جنگ کے اہداف میں شامل تھا، جبکہ بعد میں جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا ہدف سامنے آیا۔

لوموند کے مطابق جنگ کے اہداف میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب بعض ماہرین امریکا کی تزویراتی شکست کی بات کر رہے ہیں اور دفاعی میزائلوں اور جدید گولہ بارود کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں جنگ کے بھاری اخراجات اور امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی اصل مالیت کے بارے میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات کے ماہر مارک کینسیان کے مطابق امریکی تنصیبات کی بحالی پر تقریباً 9 ارب ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں، جبکہ امریکی وزیر دفاع نے جنگ کی مجموعی لاگت 37.5 ارب ڈالر بتائی ہے۔ تاہم اس رقم میں فوجی اڈوں کی بحالی کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

لوموند نے قانونی نگرانی محدود ہونے، شہری ہلاکتوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور فوجی اہداف کے تعین کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

فرانسیسی اخبار نے نتیجہ اخذ کیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے فوجی کامیابیوں کے دعووں کے باوجود جنگ کی شفافیت، اس کے بدلتے اہداف اور اس کے اخراجات و تزویراتی نتائج کے حوالے سے اہم سوالات بدستور موجود ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha