اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے صدر جوزف عون نے ملک کے جنوبی علاقوں، بالخصوص نبطیہ اور اس کے اطراف میں اسرائیلی حملوں کی مسلسل کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ’’فریم ورک معاہدے‘‘ کی بار بار خلاف ورزی، فوجی رابطہ کاری کمیٹی کی سرگرمیوں اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ جاری ہیں۔
انہوں نے انصار کے علاقے میں ایک پورے خاندان کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں مذاکرات کے عمل اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکا کی کوششوں کے خلاف واضح پیغام ہیں۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آج صبح سے نبطیہ، انصار، دیرالزہرانی اور اطراف کے دیہات پر اسرائیلی حملوں میں شدت، فضائی حملوں، شدید بمباری اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سلسلہ انتہائی خطرناک ہے اور جنوبی لبنان میں استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
سلام نے انصار کے علاقے پر اسرائیلی حملے میں 7 افراد کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں شہید ہونے والے افراد کسی فوجی تنصیب کا حصہ نہیں تھے اور شہید ہونے والے بچے اور خواتین بھی فوجی اہداف نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی سرزمین پر کسی بھی ممکنہ فوجی تنصیب سے نمٹنے کی ذمہ داری صرف لبنانی حکومت، فوج اور قانونی اداروں کی ہے۔ ایسی کسی تنصیب کی موجودگی بھی اسرائیل کو لبنانی سرزمین پر حملہ کرنے یا شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈالنے کا حق نہیں دیتی۔
لبنان کے وزیراعظم نے آخر میں اسرائیلی حملوں میں شدت کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے عوام کا تحفظ اور اپنی سرزمین پر زندگی گزارنے کا حق مذاکرات یا سودے بازی کا موضوع نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ