اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے باب المندب میں کشیدگی بڑھنے سے روکنے میں کردار ادا کرے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز جاپانی وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاپان کے سفارتی مؤقف کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی خطے میں بدامنی کا خواہاں نہیں رہا، جبکہ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں نے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ہے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاپان کی سفارتی کوششیں خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور جنگ کے خاتمے میں مؤثر ثابت ہوں گی۔
جاپانی وزیراعظم نے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی ذرائع کے استعمال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ ایران اور پورے خطے کے طویل مدتی مفادات کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
سانائے تاکائیچی نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں آمدورفت جلد بحال ہو جائے گی۔
جاپانی وزیراعظم نے اس موقع پر ایرانی صدر سے خصوصی طور پر درخواست کی کہ ایران اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے باب المندب میں کشیدگی میں اضافے کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں مدد کرے۔
آپ کا تبصرہ