بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے قومی ٹیلی ویژن کے نیوز چینل سے بات چـیت کرتے ہوئے امریکیوں کے ساتھ سفارت کاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:
ہماری حالیہ سفارت کاری کا سلسلہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے شروع ہو چکا ہے۔ امریکیوں نے ہمارے سے مذاکرات کے لئے بار بار پیروی کی، ہم نے ان سے کہا کہ ہم مذاکرات نہیں کریں گے، لیکن ہم تمہیں اپنی شرطیں بتاتے ہیں؛ اور جب تک ہماری شرطوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا جائے گا، مذاکرات نہیں ہوں گے۔
امریکیوں نے کہا کہ اپنی شرطیں لکھ کر ہمیں دیں۔ پاکستانی اور قطری ثالثوں نے ان کی یہ بات ہم تک پہنچائی اور عراق نے بھی ایک کوشش شروع کی جو ادھوری رہ گئی۔ ہم نے اپنی سات شرطیں بھیجوا دیں اور کہا کہ جب تک ہماری شرطوں پر عمل نہیں ہوگا، نہ آبنائے ہرمز کھلے گا اور نہ مذاکرات ہوں گے۔
انہوں نے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا اور ہم نے کہا کہ اس کے بعد ہمیں کوئی مسئلہ نہیں؛ پہلے ہمیں آپ میں رویئے کی تبدیلی دیکھنی چاہئے۔
ہم اب ماضی کی سفارتکاری کی طرف واپس نہیں جائیں گے۔ رویئے کی تبدیلی یہ ہے کہ ان ہی سات شرطوں پر عمل کرو۔ اگر تم نے رویہ بدلا اور ہم نے اسے دیکھا، تو پھر ہم بیٹھ کر اس مسئلے پر بات کر سکتے ہیں کہ کیا کرنا چاہئے۔
اس گفتگو کا فریم ورک اسلام آباد میں پیش کی گئی شرطوں پر مبنی نہیں ہے اور ان سے مختلف ہے؛ اور طریقہ کار کے لحاظ سے بھی بالکل مختلف ہے۔
ہم نے شرطیں بھیجیں اور انہوں نے جواب دیا۔ ان کے جواب میں ہم نے دیکھا کہ اولاً انہوں نے ہماری سات شرطوں پر عمل کو کسی حد تک پتلا کر دیا ہے اور ثانیاً وہ ان باتوں کو آگے لے آئے ہیں، جو بعد کے مراحل میں ہونا تھیں۔ ہم نے انہیں لکھا کہ تمہارے جوابات کافی اور اطمینان بخش نہیں ہیں۔
اس کے بعد، جناب عاصم منیر ایران آئے اور قطری بھی ایران آئے اور دوسری تجویز پیش کی۔ دوسری تجویز پہلی تجویز سے بہتر تھی، لیکن پھر بھی ہم نے دیکھا کہ ہم خوش فہمی سے کام نہیں لینا چاہتے اور ایسی بات قبول نہیں کرنا چاہتے کہ وہ پھر بھی ہم پر حملہ کریں۔
اسی لئے، ہم نے واضح پیغام بھیجا اور وزیر خارجہ جناب سید عباس عراقچی نے ان سے کہا کہ ایران بنیادی طور پر آپ پر شکوک و شبہات رکھتا ہے؛ ممکن ہے ہم مذاکرات کریں اور تم انتخابات کے بعد دوبارہ حملہ کرو!
یہ موضوع اٹھانے کے بعد، ان کا تیسرا جواب آیا جو پچھلے جوابات کے مقابلے میں بہت بہتر تھا اور اس میں یہ وضاحت تھی کہ امریکی ہماری سات شرطیں ماننے کے لئے تیار ہیں۔
اس کے بعد، ہمارے کچھ ابہامات تھے جو جناب عراقچی نے دوسرے امریکیوں تک پہنچائے۔ وہ امریکہ گئے تھے اور کچھ جوابات ساتھ لائے جو تقریباً کل (جمعہ 30 اکتوبر) سے جناب عراقچی نے پیش کیے اور اس نئے دور میں ان پر بحث شروع ہو گئی۔
لہذا، ہم سفارتکاری کو سنجیدہ ضرور لیتے ہیں، لیکن کسی بھی صورت میں ایرانی قوم کے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ