بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران نے آج 2 نومبر 2026ع کو اعلان کیا کہ صرف 9 دن پہلے جب سینٹ کام کے کمانڈر نے آبنائے ہرمز کا دورہ کیا تھا، آج تک 11 تیل بردار جہازوں کو جلایا جا چکا ہے یا سمندر کی تہہ میں بھیجا جا چکا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کرنے والے دو سوپر آئل ٹینکرز میں آگ لگنے کی ویڈیو شائع ہوئے کا ابھی ایک دن بھی نہیں گذرا تھا کہ سینٹ کام کے کمانڈر نے 25 اکتوبر کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے کی فضائی حدود میں لی گئی اپنی ایک تصویر شائع کر دی اور کہا کہ ہم نے آبنائے کو بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے اور جہاز بھی اس سے گذر رہے ہیں؛ لیکن اس کے برعکس سپاہ کی بحریہ ہر روز آبنائے ہرمز کے اسی حصے میں تیل بردار جہازوں میں آگ لگنے ویڈیوز نشر کرتی رہی ہے۔
سپاہ پاسداران کی بحریہ نے اس سے پہلے بھی اعلان کیا تھا کہ اب وہ آبنائے میں صرف خلاف ورزی کرنے والوں کو دور سے نشانہ نہیں بنائے گی بلکہ ان کا تعاقب کرے گی اورانہیں سزا دے گی۔
آج صبح سویرے سعودی عرب کے ساحل پر ایک کویتی تیل بردار جہاز ـ جس کا رخ امارات کی بندرگاہ جبل علی کی طرف تھا، اور گذشتہ رات جزیرہ نما مسندم کے مغرب میں آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے پر ایک اماراتی ٹگ بوٹ کو نشانہ بنایا گیا؛ یہ اس علاقے میں نشانہ بنایا جانے والا دوسرا ٹگ بوٹ ہے۔
دو دن پہلے، سمندری سلامتی کے ادارے "اوربٹل ڈیلی" نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ وہ قطری جہاز ـ جسے جزیرہ لاوان کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا، ـ قطر، بحرین اور سعودی عرب و امارات کے ساحلوں سے منسلک بحری جہازوں کے راستے کے علاقے میں ـ یعنی خلیج فارس کے گہرے پانیوں ـ میں تھا۔

اخباری ذرائع کہتے ہیں کہ ابوظہبی قومی تیل کمپنی، ایڈناک (Abu Dhabi National Oil Company [ADNOC]) نے تیل فروشی کے لئے ایک راستہ بنایا ہے اور وہ خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک سے تیل خریدتی ہے اور آبنائے ہرمز سے گذر کر بحیرہ عمان میں اسے زیادہ قیمت پر فروخت کرتی ہے۔
لیکن اب خلیج فارس کے شمال، آبنائے کے جنوبی حصے اور عمان کے ساحلوں پر بحری جہازوں کے مسلسل نشانہ بننے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے [بھی] آبنائے ہرمز کے ایرانی قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ