بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے کہا:
امریکہ کے ساتھ سابقہ مفاہمت نامے میں لکھا گیا تھا "آبنائے ہرمز، ایرانی انتظامات کے ساتھ" اور اس کے آخر میں بھی لکھا گیا تھا "بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے" جس کی وجہ سے کچھ تفسیریں اور تاویلیں ہوئیں۔ لیکن اب ان شرطوں میں، درحقیقت ہم اور عمان کے درمیان ایک مشترکہ راہداری کی بات ہے جسے دونوں ممالک نے منظور کر لیا ہے اور ایران اور عمان کے اس معاہدے کو بین الاقوامی اداروں میں رجسٹر کرایا جائے گا۔ آبنائے اور اس آبی گذرگاہ میں ایران کا انتظام موجود ہے اور جو بھی ان پانیوں سے گذرتا ہے، تو وہ ان پانیوں سے گذرتا ہے جن کا انتظام ایران کے پاس ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
رقوم وصول کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ اگر ہم متفق ہوئے تو یہ رقوم ادھار کی صورت میں وصول نہ ہوں [بلکہ وصولی نقد ہو]۔
شرطوں کے دیگر شقوں میں بھی ـ جانچ (Fact checking) کے لحاظ سے بھی اور عملدرآمد کی ضمانت (Guarantee of Implementation) کے لحاظ سے بھی ـ فرق ہے؛ جنہیں ان شاء اللہ بروقت شائع کیا جائے گا۔
مجموعی طور پر بھی معاملہ یہ ہے کہ پہلے ہم اپنی شرطیں منوا کر امریکہ کے رویئے کو تبدیل کریں گے اور پھر دیگر مباحث میں داخل ہوں گے۔
مثال کے طور پر، اگر کبھی ہم جوہری مباحث میں داخل ہونا چاہیں، تو پہلے ہم اپنے حقوق پر زور دیں گے، نہ یہ کہ اپنے اوپر کوئی پابندی لگائیں؛ کیونکہ خود آئی اے ای اے بھی جانتی ہے کہ این پی ٹی کے ہر رکن ملک کو، این پی ٹی میں دیئے گئے 22 حقوق حاصل ہیں۔ تو ہم اپنے تمام حقوق کیوں استعمال نہ کریں؟ جب تک ہم این پی ٹی میں ہیں، ہمیں یہ 22 حقوق حاصل ہیں۔
البتہ ممکن ہے وہ جنگ چھیڑنا چاہیں اور معلوم نہیں کہ ہم جنگ کے بعد مستقبل میں این پی ٹی میں رہیں گے یا نہیں؟ لیکن جب تک ہم اس کے رکن، ان 22 حقوق سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
ان 22 حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ ہر ملک جو این پی ٹی کا رکن ہے، دوسرے ممالک کے ساتھ جوہری تبادلات کر سکتا ہے۔ ہم نے تکنیکی سائنس کے لحاظ سے اس حق سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا؛ جبکہ این پی ٹی میں 22 بہت اچھے حقوق ہیں اور ہمیں ان کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
لہذا، ہم سنجیدہ ہیں اور کسی بھی صورت ایرانی قوم کے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور وقت ضائع نہیں کریں گے۔
ہم چاہتے ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملے میں ایرانی قوم کا مقام اس طرح ہو کہ اس میں کوئی شک و شبہ اور تردد و تذبذب نہ ہو اور دوسرے فریق کی طرف سے کوئی فریب کاری نہ ہو۔
گروسی اسرائیل کا اجرتی ہے
جناب گروسی نے جو بھی خلاف قانون کام کیے، میرے خیال میں وہ اسرائیل کا اجرتی ہے۔ ہمارے تمام بنیادی مسائل اس وقت شروع ہوئے جب اس نے آئی اے ای کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا؛ جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تمام سربراہان کے دور میں ہمیشہ تحریری طور پر لکھا جاتا رہا کہ ایران نے جوہری معاملے میں کوئی انحراف نہیں کیا ہے۔ یہ پہلا شخص ہے جس نے آتے ہیں انحراف کی بات کی۔
ہمارے پاس طویل معائنوں کی بہت سے دستاویزات اور ریکارڈز ہیں۔ جوہری ممالک میں سب سے زیادہ معائنے ایران میں کئے گئے ہیں۔ دو سال سے زیادہ عرصے میں، بے شمار دستاویزات موجود ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ ایران نے پرامن راستے سے کوئی انحراف نہیں کیا۔ لیکن رافائل گروسی نے ایران کے جوہری پروگرام میں انحراف پر زور دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ