بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیئے کے پلیٹ فارم "سور اٹلس" (Soar Atlas) کی شائع کردہ نئی سیٹلائٹ تصاویر مشرقی سعودی عرب کے شہر دمام میں ایک صنعتی کمپلیکس میں یمن کی جانب سے حملے کے بعد کی وسیع آتشزدگی کو عیاں کرتی ہیں۔
یہ واقعہ، جیسا کہ میڈیا نے تسلیم کیا ہے، عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور دنیا کے کلیدی تیل فراہم کنندگان میں سے ایک ملک میں صنعتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لئے پیدا ہونے والی عدم تحفظ کے سلسلے کی ایک کڑی اور عالمی منڈیوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
یہ تصاویر جو یکم نومبر کو ریکارڈ کی گئیں، اس کمپلیکس کو لگنے والی آگ کے حجم اور نقصان کو بے نقاب کرتی ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق، اتوار (یکم نومبر) کی آتشزدگی کا سبب ایک میزآئل یا ڈرون حملہ تھا جسے ذرائع ابلاغ نے دمام کے اس صنعتی کمپلیکس پر یمنی حملہ قرار دیا اور لکھا کہ اس کے نتیجے میں مذکورہ تنصیبات میں "بڑی آتشزدگی" سے دوچار ہو گئی ہیں۔


ذرائع نے واقعے کے مقام سے اٹھنے والے شعلوں اور گاڑھے کالے دھوئیں کی ویڈیوز بھی نشر کی ہیں۔
سعودی حکام نے ابھی تک متاثرہ تنصیبات کی صحیح نوعیت اور نقصان کی مقدار کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے اور کسی فریق نے بھی اس حملے کی براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اقتصادی نقطۂ نظر سے، سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دمام صرف ایک صنعتی شہر نہیں بلکہ سعودی عرب کے توانائی اور لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کا دل سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ایک مہینے کے دوران، اسی علاقے میں دمام ایئرپورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں نے مارکیٹ ذرائع کے مطابق، تیل کی فراہمی میں رکاوٹیں پڑنے کے بارے میں خدشات کو شدید تر کر دیا ہے اور برینٹ تیل کی فی بیرل قیمت کو 110 ڈالر سے اوپر پہنچا دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ