بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی انقلاب کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے تاریخی 'ذوالفقاری آپریشن' کی سالگرہ اور جزیرہ آبادان سے بعثی جارحین کو عوامی حماسے کے ساتھ نکالنے کے موقع پر ایک پیغام میں، پہلے دفاع مقدس میں ایرانی قوم کی فتح اور کامیابی کے عوامل کی وضاحت کرتے ہوئے، قوم کی ہوشیاری؛ عوامی افواج کے ایمان اور الٰہی جذبے، عوامی افواج کی قربانی، جانفشانی اور بہادرانہ استقامت نیز فوج اور سپاہ پاسداران کی بہادری کے امتزاج کو جارح اور مسلح دشمن پر غلبے کا راز قرار دیا۔
حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
31 اکتوبر کی تاریخ، اسلامی مجاہدین کی بہادرانہ کارروائی اور بعثی جارحوں کے خلاف عوامی حماسے (Epic) اور انہیں جزیرہ آبادان سے مار بھگانے کی سالگرہ ہے، ایسا کارنامہ جو سنہ 1980 میں ـ پہلی مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے صرف چالیس دن بعد ـ رقم ہؤا۔
اس اہم کارنامے کا نام ـ جو آٹھ سالہ مقدس دفاع میں ایرانی قوم کی پہلی فتح شمار ہوتا ہے اور جس کے بارے میں کم بات ہوئی ہے، ـ 'ذوالفقاری آپریشن' ہے اور اس میں ہماری اسلامی سرزمین پر دشمنوں اور جارحوں کے لئے ہر زمانے میں بہت سے اسباق موجود ہیں۔
ان دنوں عراق پر ایک ظالم حکمران حکومت کر رہا تھا جو ان [عراقی عوام] کے عقائد و روایات کے ساتھ صحیح تعلق قائم نہیں کرتا تھا اور [وہ] عراق کی کَرِیم قوم کے مسلک کے برخلاف، ـ جو حقیقتاً حق کے ساتھ ایرانی عوام کے ساتھ بھائی چارے کے رشتے میں منسلک ہیں ـ یہ تصور کرتا تھا کہ کچھ نعروں اور بے بنیاد دعوؤں کے ذریعے ـ مکتب اور خاندانِ عصمت و طہارت (صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین) سے محبت پر مبنی گہرے رشتے میں منسلک ہیں ـ کو توڑ سکتا ہے۔
اُن دنوں بھی، بالکل آج کی طرح، بعثی دشمن نے جارحیت، قبضے اور محاصرے کے روایتی ہتھکنڈے اپنائے؛ اُن کے مذموم منصوبوں کا مؤثر جواب دینے اور اُن پر فتح پانے کا راستہ عوام اور جان نثار [عوامی] قوتوں کی بیداری اور اُن کی جان نثارانہ استقامت میں مضمر تھا؛ حس کے ساتھ فوج اور سپاہ پاسدارانِ کے بہادر جوانوں کی شجاعت بھی شامل تھی۔
اس روز، ایک سادہ مگر غیور ایرانی مزدور نے ـ اپنی جان نثاری اور فداکاری مظاہرہ کرتے ہوئے ـ لوگوں کو دشمن کی گھناؤنی سازش سے خبردار کیا۔ نتیجتاً، مقامی رضاکاروں اور علاقے کی مساجد کے نمازیوں پر مشتمل ایک گروہ ـ جو ایمان اور الہی عزم و حوصلے سے سرشار تھا، کم از کم دستیاب وسائل لے کر، میدان کارزار میں اترے جن کی قیادت آبادان کے بہادر اور جان نثار امام جمعہ، عالمِ عامل مرحوم آیت اللہ جمی (رحمۃ اللہ علیہ) کر رہے تھے ـ میدانِ کارزار میں اتر آیا۔
اس دن، ایک سادہ اور غیور ایرانی مزدور نے قربانی اور ایثار کے ساتھ عوام کو دشمن کے مذموم عزائم سے آگاہ کیا اور اس علاقے کی عوامی افواج اور مساجد میں حاضر ہونے والے عوام نے ایمان اور الٰہی جذبے کی مدد سے، کم سے کم وسائل کے ساتھ اور آبادان کے مجاہد اور فداکار امام جمعہ، عالمِ عامل اور بہادر، مرحوم آیت اللہ جمی (رحمۃ اللہ علیہ) کی رہنمائی میں میدانِ جنگ میں حاضر ہوئے۔
اس عوامی حرکت نے جدید ہتھیاروں سے لیس جارح اور مسلح دشمن کو پشیمان کر دیا اور جلد ہی، شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ملتِ ایران کی مختلف قومیں اسلامی ایران کی سرحدوں کے دفاع کے لئے متحد ہو گئے؛ اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں ـ اللہ کے فضل سے، امامِ امت (قُدِّسَ سِرُہ الشریف) کے فرمان پر ـ آبادان کا محاصرہ توڑ دیا گیا۔
اور آج بھی وہی ہوشیاری اور ایمان، وہی جذبہ اور عزم و ارادہ، وہی قربانی اور 'جان فدائی' اور وہی غیرت اور استقامت ہے جو حضرت حق (جل و علا) کی عنایات اور ہمارے آقا و سرور (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشریف) کی توجہات کے تحت، مظلوم مگر مضبوط ایرانی قوم کی مدد کر رہی ہے، بڑے شیطان کی بالادستی، جرائم اور تجاوز کے مقابلے میں اور تیسری مسلط جنگ میں فتح تک پہنچنے میں۔
اور آج بھی، وہی بیداری اور ایمان، وہی جذبہ اور عزم، وہی ایثار اور جان نثاری، اور وہی جوش و استقامت ـ جس کو خدائے متعال (جلّ وَعَلَا) کی عنایت اور ہمارے آقا و سرور (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشریف) کی توجہ و تائید حاصل ہےـ ایران کی مظلوم مگر طاقتور قوم کے لئے ’شیطانِ بزرگ‘ کی بالادستی اور جرائم اور جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اس تیسری مسلط کردہ جنگ میں فتح حاصل کرنے میں سہارا اور تقویت کا باعث بنی ہوئی ہے۔
﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾
سیّد مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
مورخہ 9 آبان 1405 ہجری شمسی / 31 اکتوبر 2026ع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ