اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیانات میں مذاکرات کے طویل اور تعطل کا شکار عمل کے حوالے سے واضح پروپیگنڈا کرتے ہوئے واشنگٹن کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی مسلسل ناکامی کو بے بنیاد دعوؤں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کا عمل اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے، تاہم ایرانی فریق قابلِ اعتماد نہیں اور معاہدہ طے پانے کے بعد اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کے اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے بے بنیاد الزام ہے جس کا ماضی وعدہ خلافیوں اور بین الاقوامی معاہدوں سے یکطرفہ علیحدگی سے بھرا پڑا ہے۔
اگلے ہفتے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کیے جانے کے امکان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بھی ٹرمپ نے واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ ذرائع ابلاغ کے سامنے اس معاملے پر بات نہیں کریں گے۔
آپ کا تبصرہ