بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عالمِ اسلام کے 72 بڑے شیعہ اور سنی علماء نے حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے نام خط لکھ کر آپ سے جوہری ہتھیار کی حرمت کے فتوے پر نظر ثانی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری ڈاکٹرائن کا فقہی اور تزویراتی سطح پر دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی ہے اور زور دیا ہے کہ ایران کے جوہری رویئے پر نظرثانی ایک ضرورت ہے چنانچہ امتِ مسلمہ کی تسدید (بازداری = Deterrence) کو مضبوط بنایا جانا چاہئے۔
اسلامی ممالک کے 72 علماء، دانشوروں اور مفتیوں نے صہیونی رجیم کے بڑھتے ہوئے مظالم اور خطے میں امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں کے تناظر میں، اسلامی انقلاب کے جمہوریہ ایران کے رہبرِ معظم کے نام ایک خط میں جوہری ڈاکٹرین میں فقہی اور تزویراتی سطح پر غور و نظرثانی کی درخواست کی ہے۔
اس خط کے دستخط کنندگان نے ایران کے جوہری رویئے پر نظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے، رہبرِ انقلابِ اسلامی کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا اور امتِ اسلامی کی تسدیدی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس خط میں غزہ اور لبنان کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے مسلسل مظالم اور ایران پر امریکہ اور قابض حکومت کی فوجی جارحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے، جارحین کے سامنے بین الاقوامی نظام کی بے کیفی پر تنقید کی گئی ہے، اور میناب میں بچوں کے بے رحمانہ قتلِ عام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
عالمِ اسلام کے نخبگان نے سورہ انفال کی آیت 60 اور سورہ بقرہ کی آیت 194 کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی تیاری اور بازداری (Deterrence) کی صلاحیتیں پیدا کرنا، دشمنوں کے مقابلے کے لئے ایک ناقابلِ انکار ضرورت قرار دیا ہے۔
اس خط اور اس فراخوان میں واضح کیا گیا ہے کہ مطلوبہ نظرثانی کے لئے لازم ہے کہ شرعی قطعی اصولوں، ظلم کی حرمت، تعدی اور جارحیت کی ممانعت اور بے گناہوں کی جان کی حفاظت کا احترام کرتے ہوئے، اجتہاد کی حرکت پذیری اور تقاضوں پر پورا اترنے، اور عالمِ اسلام کے نئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہئے۔
پائیدار سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمنوں کی جارحیتوں کے اعادے کو روکنے کے لئے جائز، مؤثر اور متناسب راہ حل تک پہنچنا اس نظرثانی کا مقصد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خط کے کچھ فقرے درج ذیل ہیں:
یہ خدشات صیہونی وجود کے اسٹراٹیجک اور جوہری صلاحیتوں کے مالک ہونے، اور خطے اور عالمِ اسلام کی سلامتی کو مسلسل دھمکیاں دیتے رہنے اور خطرے میں ڈالنے کے پس منظر میں مزید بڑھ جاتے ہیں، جبکہ وہ مناسب بین الاقوامی شفافیت اور نگرانی کے تابع بھی نہیں ہے۔ نیز علاقائی تنازعات میں تابکار مواد، جن میں افراغ شدہ یورینیم (depleted uranium) پر مشتمل ہتھیاروں اور گولہ بارود کے استعمال سے متعلق رپورٹیں اور اٹھائے جانے والے خدشات، اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس معاملے کے انسانی، قانونی اور سلامتی کے پہلوؤں کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔
ایسے حالات میں، قرآنِ کریم کی ان تعلیمات پر توجہ دینے کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے جو دفاعی تیاری اور تسدیدی صلاحیت (Deterrent Capability) کی تعمیر سے متعلق ہیں، کیونکہ یہ ایک ناقابلِ انکار ضرورت ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورہ انفال کی آیت 60 میں ارشاد فرمایا:
"وَأَعِدُّوا لَهُم مَا اسْتَطَعْتُم مِن قُوَّةٍ وَمِن رِبَاطِ الخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ۔۔۔؛
اور مہیا رکھو ان کے لئے جو تم فراہم کر سکو طاقت اور گھوڑوں کو مورچوں پر تیار رکھنے کی صورت سے، جن کے ذریعے تم خوفزدہ بناؤ اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن اور دوسروں کو جو ان کے علاوہ ہیں، جنہیں تم نہیں جانتے ہو، اللہ انہیں جانتا ہے۔۔۔۔"
یہ آیت کریمہ جامع دفاعی استعداد اور دشمنوں کے سامنے تسدید اور بازداری کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے اصول کی تصدیق کرتی ہے، اور یہ ایسا اصول ہے جو موجودہ حالات میں، اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر مسلمانوں کو درپیش خطرات کے پیش نظر، زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، دقیق مطالعے کا متقاضی ہے۔
دوسری جانب، اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت 114 میں ارشاد فرماتا ہے:
"فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ؛
تو جو شخص تمہاری طرف دست درازی (جارحیت) کرے، تو جس طرح اس نے تمہاری طرف دست درازی کی ہے تم بھی ان کی طرف ویسی ہی دست درازی (جارحیت) کرو اور اللہ کے غضب سے بچو اور جانتے رہو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔"
واضح ہے کہ ان دو آیتوں سے استناد کرنے کے لئے دیگر قطعی شرعی اصولوں کی رعایت بھی لازم ہے، جن میں ظلم کی حرمت، اللہ کی حدود سے تجاوز کی حرمت، اور بے گناہوں کی جانوں کی حفاظت شامل ہے۔ اسی لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ شرعی اصولوں، امتِ اسلامی کے دفاع کی ضرورت، اور بڑھتی ہوئے خطرات اور دھمکیوں کے مقابلے میں تسدید کے تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی کیسے پیدا کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ