خبر رساں ادارے اہل بیت(ع) ابنا کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیانات پر اسرائیلی حلقوں میں تنقید جاری ہے، جن میں انہوں نے اسرائیل کو بین الاقوامی تنہائی اور ممکنہ پابندیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
اسی تناظر میں عبرانی اخبار ہاآرتص نے اپنے اداریے میں اسرائیلی وزیرِاعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ نیتن یاہو نے ایک نیا اور خطرناک ریکارڈ قائم کیا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی معیشت سنگین بحران یا حتیٰ کہ انہدام کی طرف جا سکتی ہے۔
ہاآرتص کے مطابق، نیتن یاہو اپنی موجودہ وزارتِ عظمیٰ کی مدت ایسے وقت میں مکمل کر رہے ہیں جب اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت انتہائی کمزور ہو چکی ہے اور پہلی مرتبہ اس کی اقتصادی بنیادیں بھی خطرے میں نظر آ رہی ہیں۔
اخبار نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی جانب سے پابندیوں کو نظرانداز کرنے یا ان سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے کی تجویز، تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر انحصار کرنے والے اسرائیلی بینکاری و اقتصادی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور سرمائے کے انخلا کا باعث بن سکتی ہے۔
ہاآرتص نے لکھا کہ بینک اور کاروباری شعبہ اس صورتحال پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو 12 ممالک کی جانب سے ممکنہ پابندیوں کو تقریباً یقینی سمجھتے ہیں، جو آبادکاروں کی کارروائیوں اور E1 علاقے میں تعمیراتی منصوبے کے ردعمل میں عائد کی جا سکتی ہیں، تاہم وہ انہیں روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔
ہاآرتص نے نیتن یاہو پر مزید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے انتہا پسند اتحادیوں کے دباؤ میں ہیں اور ان کا اقتدار میں برقرار رہنا اسرائیل کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب نیتن یاہو نے جمعہ کے روز کہا کہ اگر اسرائیل پر بین الاقوامی اقتصادی اور بینکاری پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو وہ متبادل ذرائع، بشمول ڈیجیٹل کرنسیوں، پر مبنی اقتصادی منصوبہ تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نے یہ بھی اعتراف کیا کہ امریکی فوجی امداد ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی اور اسرائیل کو ممکنہ طور پر اس امداد کے خاتمے کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔
صہیونی چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ 100 سے زائد ممتاز ماہرینِ اقتصادیات، کاروباری شخصیات، مرکزی بینک اور وزارتِ خزانہ کے سابق حکام اور ماہرینِ تعلیم نے ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کو بین الاقوامی پابندیوں اور اقتصادی تنہائی کی جانب لے جا رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین نے زور دیا کہ ڈیجیٹل کرنسیاں اگرچہ رقوم کی منتقلی میں مدد دے سکتی ہیں، تاہم وہ پابندیوں کا خاتمہ نہیں کر سکتیں اور نہ ہی معیشت کے لیے ضروری اعتماد، بینکاری روابط اور تجارتی تعلقات کا متبادل بن سکتی ہیں۔
بینک آف اسرائیل نے کہا کہ پابندیوں کے نفاذ کو روکنا اور اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھنا کابینہ کی ذمہ داری ہے، جبکہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سیاسی اداروں کو اقدامات کرنا چاہییں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزارتوں کے اقتصادی ذرائع اور وزیرِاعظم کے دفتر کے اعلیٰ حکام نے کہا کہ نیتن یاہو کے بیانات کے برعکس، ایسا منصوبہ تیار کرنے کے لیے کوئی باضابطہ اور پیشہ ورانہ ٹیم تشکیل نہیں دی گئی۔
اسرائیل کی صنعت کاروں کی ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ ران تومر نے بھی خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی جانب سے پیش کیا گیا منظرنامہ تجارتی تنہائی، سرمایہ کاری میں کمی اور پیداوار میں گراوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے نیتن یاہو کے ان بیانات کو تشہیری نوعیت کا قرار دیتے ہوئے ان کے سابقہ مؤقف سے تشبیہ دی، جب انہوں نے مغربی ممالک کی جانب سے ہتھیاروں کی برآمد پر عائد پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل کو ایک ’’سپر اسپارٹا‘‘ میں تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔
آپ کا تبصرہ