بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات اوہائیو میں ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت پر تنقید کی۔
اوباما نے کہا: "ٹرمپ نے ایک غیر ضروری جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا، ایسی جنگ جسے کوئی بھی نہیں چاہتا تھا اور جسے کسی نے ووٹ نہیں دیا تھا۔"
امریکہ کے سابق صدر نے دعویٰ کیا: "ایران کے پاس جوہری بم نہیں تھا، کیونکہ میں نے ایک معاہدہ کیا جسے سب نے تسلیم کیا کہ اس نے انہیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا، اور اس کے لئے مجھے میزائل داغنے کی ضرورت نہیں تھی۔"
اوباما نے یہ دعویٰ ایسے وقت میں کیا جب ایران نے بارہا زور دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا، اور متعدد بین الاقوامی اداروں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے (JCPOA) سے ٹرمپ کے انخلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: "وہ معاہدے سے نکل گیا، اس جنگ کا آغاز کیا۔ سات ماہ بعد، اور ٹرمپ کے کے اعلانِ فتح کے چھ ماہ بعد، اس جنگ میں کیا ہؤا؟"
اوباما نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے نتائج کے بارے میں کہا: "اس جنگ میں ہمارے اتحادیوں اور ہمارے اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکیوں کو مارا گیا، سینکڑوں امریکی زخمی ہوئے، ہمارے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے اور ایران کے پاس اب آبنائے ہرمز میں ویٹو کا اختیار ہے، وہی راستہ جس سے تیل، عالمی منڈی میں داخل ہوتا ہے۔"
بارک اوباما نے زور دیا: "یہی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ہے۔ اس بارے میں کسی کو شک نہیں۔ یہی ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ہے۔ یہی تقریباً ہر چیز کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ہے اور یہی افراط زر اور مہنگائی کی وجہ ہے۔"
اوباما نے کہا: امریکہ کی آج کی ناگفتہ بہ معاشی صورت حال ٹرمپ کے غلط فیصلوں کے ایک مجموعے کا نتیجہ ہے۔
یاد رہے کہ اوباما نے اپنی صدارت کے دوران ایران کے معاملے پر بارہا "میز پر موجود آپشنز" اور فوجی کارروائی کے امکان پر زور دیا تھا اور جس ایٹمی معاہدے کی طرف اس نے اشارہ کیا ہے، اس کی شقوں پر عمل نہیں کیا تھا اور معاہدے کے بعد بھی ایران پر درجنوں پابندیاں عائد کرکے 'امریکی رجیم' کے ناقابل اعتماد ہونے کا ثبوت دیا تھا اور ثابت کیا تھا کہ امریکی عہد شکن ہیں۔
ایران پر ٹرمپ کی خودسرانہ جارحیت حقیقتاً امریکہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے اور اب تک متعدد امریکی سیاستدانوں، تجزیہ کاروں اور ماہرین نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کی مخالفت کی ہے اور جنگ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تنازعات جاری رہنے کی صورت میں، قیمتوں میں اضافے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ