بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آج کی دنیا میں، طاقت چار عناصر پر مشتمل ہوتی ہے: معیشت، آبادی، جغرافیہ اور فوجی ٹیکنالوجی۔ ان چار عناصر میں، جوہری ہتھیار حتمی تسدید کے طور پر جانا جاتا ہے؛ ایک ایسا اوزآر جو اپنے مالک کو تزویراتی استثنیٰ عطا کرتا ہے اور اسے عظیم طاقتوں کی طرف کی براہ راست فوجی دھمکی سے دور رکھتا ہے۔
دوسری قسط:
• دلچسپ تضاد یہ ہے کہ ایٹم بم آبنائے بند کرنے کی دھمکی کو زیادہ معتبر بنا دیتا ہے، جبکہ جوہری ہتھیار کے بغیر، اگر ایران آبنائے بند کرے تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بھاری وسیع فوجی حملے کا امکان زیادہ ہے۔ جوہری ہتھیار کے ساتھ، اس حملے کی لاگت ناقابل قبول سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ نتیجتاً ایران جوہری ہتھیار رکھتے ہوئے، آبنائے بند کرنے کی دھمکی کو مستقل سودے بازی کے آلے کے طور پر رکھ سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اس کو دشمن کی طرف سے تباہ کن فوجی جواب کی فکر لاحق ہو۔
• آبنائے ہرمز میں ہر تناؤ فوراً عالمی تیل کی قیمت اور شپنگ انشورنس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جوہری ایران آبنائے کو مکمل بند کئے بغیر، صرف محدود بدامنی پیدا کر کے تیل کی قیمت بڑھا سکتا ہے۔ یعنی یہ کہ
• اگر جوہری تسدید (Nuclear Deterrence) فوجی ہتھیار ہے تو آبنائے ہرمز اقتصادی ہتھیار ہے۔ ان دونوں کا امتزاج یعنی ایران اپنی عملی سلامتی کی ضمانت بھی دے سکتا ہے اور عالمی اقتصادی سلامتی کو بھی اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔
• یہی وہ چیز ہے جو بڑی طاقتوں کو دوبارہ سوچنے اور اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
• ایران سے ٹکراؤ کی لاگت صرف فوجی نہیں بلکہ اقتصادی اور عالمی ہے اور جوہری ایران سفارت کاری میں آبنائے ہرمز کے دباؤ کے ہتھیار کے فوائد سے مستفید ہو سکتا ہے۔
• آج کا مشرق وسطیٰ کئی طاقتوں کے مقابلے کا میدان ہے؛ ایران، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اور صہیونی رجیم۔ ایران جوہری ہتھیار کی عدم موجودگی میں، مجبور ہے کہ محور مقاومت کے ذریعے اپنی سلامتی کا تحفظ کرے اور اپنا اثر و رسوخ پھیلا دے۔ لیکن ایک جوہری ایران فارمولا بدل دے گا، اور محور مقاومت بھی محفوظ رہے گا۔
• اسرائیل خطے کی واحد جوہری طاقت ہے۔ ایران کے جوہری کلب میں داخلے کے ساتھ، یہ اجارہ داری ٹوٹ جاتی ہے اور ایران کسی بھی علاقائی مذاکرات میں برابری کی پوزیشن سے بات کر سکتا ہے۔
• واشنگٹن چار دہائیوں سے فوجی آپشن میز پر رکھے ہوئے ہے۔ ایٹم بم اس آپشن کا خاتمہ کرکے ایران کو "اہداف" کی فہرست سے ہٹا کر "مذاکراتی فریق" میں تبدیل کر دیتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا کوئی بھی اقدام ایران کی خواہش کے مطابق تشکیل پاتا ہے۔
• ریاض اور انقرہ بھی مجبور ہوں گے کہ اپنے حساب کتاب میں ایران کے جوہری وزن کو ملحوظ رکھیں۔ یعنی ایران توازن کے قواعد کا فیصلہ کن نقطہ بن جاتا ہے۔
• اس تبدیلی کا نتیجہ اسی کردار کی طرف واپسی ہے جو ایران نے اپنے تاریخی ادوار میں ادا کیا تھا۔ ایک ایسا کھلاڑی جس کی رائے کے بغیر خطے میں کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہوتا اور کئی بڑا فارمولا تشکیل نہیں پاتا۔
*نکتہ: ایرانی سلطنت کا نیا مفہوم نئی اسلامی تہذیب ہے جو خطے کی تمام مسلمان اقوام کے ساتھ مل کر قائم کی جائے گی۔ ان شاء اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ