بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کا دورہ ایران ایسے وقت میں ہؤا جب اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ حکام نے ایک بار پھر مذاکرات، جوہری صلاحیتوں کے تحفظ اور فوجی دھمکیوں کے بے اثر ہونے کے بارے میں اپنے موقف پر زور دیا ہے؛ ایسا موقف جس سے عیاں ہوتا ہے کہ ایران کی نظر میں سفارت کاری کا راستہ امریکہ کی جانب سے عملی ذمہ داریوں کی تعمیل اور اعتماد سازی سے گذرتا ہے، نہ کہ دباؤ اور دھونس دھمکی سے۔

امریکہ کسی بھی بات چیت سے پہلے پابندیاں اٹھا لے
اسی حوالے سے، صدر مسعود پزشکیان نے عاصم منیر سے ملاقات میں مذاکرات کے درمیان ہمارے ملک پر حملے میں امریکہ کی بدعہدی کا جائزہ لیتے ہوئے زور دیا کہ خطے کے تمام مسائل امریکہ کی جنگ جوئی کی عادت سے جنم لیتے ہیں اور انہیں ہر بات چیت سے پہلے دھمکیاں ختم کرنا ہونگی اور پابندیاں اٹھانا ہونگی۔
پزشکیان نے کہا کہ پہلے امریکیوں کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ دھمکی دینا بند کر چکے ہیں اور پابندیاں اٹھا چکے ہیں تاکہ بات چیت کے لئے مناسب حالات پیدا ہوں، واضح کیا: یہ ممکن نہیں کہ روز بروز پابندیوں اور دباؤ کی شدت بڑھائی جائے اور ہمارے ملک پر راستے بند کر دی جائیں، پھر بات چیت اور مذاکرات کا دعویٰ بھی کیا جائے۔ یہ کس قسم کی بات چیت ہے؟

افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی ایران سے باہر نہیں جائے گا
قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے بھی پاکستان کی فوج کے سربراہ سے ملاقات میں واضح کیا: افزودہ جوہری مواد کا ایک ذرہ بھی ایران سے باہر نہیں جائے گا۔
انھوں نے کہا: جوہری مواد، ملک کے اندرونی استعمال کے لئے، ایرانیوں کا قومی سرمایہ ہے اور جب تک امریکہ اعتماد سازی نہیں کرے گا، مذاکرات نہیں کریں گے۔
انھوں نے اس سے پہلے بھی زور دیا تھا کہ امریکہ کو ہر قسم کے مذاکرات سے پہلے ایران کی شرطیں پوری کرنا چاہئیں۔

تہران کے پاس امریکہ کے لئے کوئی نئی بات نہیں
مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے بھی عاصم منیر سے ملاقات میں ایران کے خلاف امریکہ کے اقدامات اور اسلام آباد سمجھوتے کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امریکہ کو اعتماد سازی کرنی چاہئے ورنہ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
انھوں نے مزید کہا: تہران کے پاس کوئی نئی بات نہیں ہے اور امریکہ ایران کی سات شرطوں کی تعمیل کے بغیر اسلامی جمہوریہ کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔
انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دھمکیاں اور فوجی سرگرمیاں ایران کے اسٹریٹجک فیصلوں کو متاثر نہیں کر سکتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: کامران شیرازی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ