26 اکتوبر 2026 - 21:35
News ID: 1882945
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جنگ صفین محض دو لشکروں کے درمیان تصادم کا میدان نہیں تھی، بلکہ اس میں امیر المومنین علیہ السلام کی سیرت میں رحمت اور لوگوں کی ہدایت کی فکر بھی نمایاں ہوئی۔ آپ علیہ السلام کے اس طرزِ عمل کو بعض اصحاب کے لیے سمجھنا مشکل تھا، یہاں تک کہ جنگ شروع کرنے میں تاخیر کو وہ آپ کے تردد یا حتیٰ کہ خوف کی علامت سمجھنے لگے۔ حالانکہ امام علیہ السلام یہ مہلت لوگوں کی ہدایت کی امید میں دے رہے تھے۔ آپ علیہ السلام فرماتے تھے کہ اگر اس تاخیر کے نتیجے میں ایک شخص کو بھی نجات اور ہدایت مل جائے تو یہ تاخیر اس کے قابل ہے۔ اس طرح سیرتِ علوی یہ واضح کرتی ہے کہ اولیائے الٰہی کی نظر میں انسانوں کی ہدایت اور نجات، فوجی فتح کے لیے جلد بازی کرنے سے زیادہ اہم ہے۔
آپ کا تبصرہ