20 اکتوبر 2026 - 13:32
متحدہ عرب امارات خلیج فارس کا اسرائیل ہے، نیتن یاہو

نیتن یاہو نے مغربی ایشیا کے نقشے پر متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کو "نیل رنگ (Indigo)" رنگ سے نمایاں کیا اور اس کے ساتھ لکھا: "امارات، خلیج فارس کا اسرائیل ہے"۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ فٹ بال کے شائقین کے ذہن میں "نیل رنگ (Indigo)" ارجنٹائن کی دوسری (متبادل) جرسی کی یاد دلاتا ہے، فلم بینوں کو یہ اسٹیون سائمن کی فلم کی یاد دلاتا ہے۔

اب، مغربی ایشیا کے جو نقشہ بنیامین نیتن یاہو نے جاری کیا ہے، اس میں "نیل رنگ" اس جملے کی علامت بن گیا ہے: "امارات، خلیج فارس کا اسرائیل ہے"۔

نیتن یاہو نے ممالک کی درجہ بندی رنگوں کے ذریعے کی ہے؛ اس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو "خلیج فارس کا اسرائیل" قرار دیا ہے اور "نیل رنگ" رنگ کے ساتھ نمایاں کیا ہے اور نقشے کی وضاحت (گائیڈ) میں اس رنگ کے بارے میں لکھا ہے: "متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا چھ رخی اتحاد"۔

ایران کے خلاف ہونے والے جرائم میں متحدہ عرب امارات کا کردار کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔ یہ وہی چمکتی  دمکتی عرب ریاست ہے جس کے صرافہ بازاروں میں کبھی ایرانی کرنسی نوٹوں کی مہک محسوس ہؤا کرتی تھی؛ مگر اب یہ واشنگٹن اور تل ابیب کے ہاتھوں تہران پر دباؤ ڈالنے کا ایک آلہ کار بن چکا ہے۔

متحدہ عرب امارات خلیج فارس کا اسرائیل ہے، نیتن یاہو

اگر آپ "معاشی غداری" "غزہ دشمنی"، "مسلم ممالک میں خونریزی" جیسے اعمال میں ملوث کسی شخص یا ریاست کی تلاش میں ہیں، تو آپ کو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں؛ بس ان شیشے کی بلند و بالا عمارتوں پر نظر ڈالیں دیکھ لیں۔

ابھی محض آٹھ سال ہی گذرے ہیں جب 2018 میں ایرانی بینکنگ حکام اور کرنسی کا کاروبار کرنے والوں (منی چینجرز) کو گرفتار کیا گیا تھا، اور ایرانی درہم کھاتوں (اکاؤنٹس) پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

رپورٹس بتاتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے نہ صرف ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیئے ہیں، بلکہ ان ہی بینکوں کی مالیاتی معلومات کو امریکی محکمہ خزانہ (یو ایس ٹریژری) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔

ایران کے سابق وزیرِ اقتصادیات کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے تمام معلومات کو یکجا کیا اور ایرانی اثاثے منجمد کروانے کے لئے واشنگٹن کے حوالے کر دیا۔

یہ دراصل "انٹیلی جنس تعاون" ہی نہیں بلکہ "پیٹھ میں چھرا گھونپنے" کے مترادف ہے۔"

اگست 2026 میں، متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے انتہائی سرد مہری کے ساتھ اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین تاحکمِ ثانی معطل کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، اماراتی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن نے ایران سے منسلک 472 بحری جہازوں کو بندرگاہی سہولیات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ایرانی جہاز، جو کبھی جبل علی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے تھے، اب اپنا سامان اتارنے کے بعد خالی واپس جانے پر مجبور ہیں۔

لیکن شاید سب سے بڑی "غداری" ان اعلانیہ اقدامات میں نہیں، بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے سامنے متحدہ عرب امارات کی "معنی خیز خاموشی" میں پوشیدہ ہے۔

یہاں تک کہ 'وال اسٹریٹ جرنل' نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران پر ہونے والے فضائی حملوں میں شریک رہا ہے۔ یوں، متحدہ عرب امارات اب ایران کے خلاف جاری 'ہائبرڈ وار' (hybrid war) میں وہ گمشدہ کڑی بن چکا ہے، جب مزید گمشدہ نہیں بلکہ ایران کی مسلح افواج کے لئے عیاں ہو چکی ہے۔

امارات اسرائیل کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے؛ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے لے کر، فلسطین کے مظلوموں کے خون میں شریک ہونے تک، سوڈان کی باغی ملیشیاؤں کو سوڈانی عوام کے قتل کے لئے ہمہ جہت امداد کی فراہمی سے لے کر صوماینہ اور یمن تک کو غیر مستحکم کرنے تک۔

متحدہ عرب امارات لیبیا سے یمن اور سوڈان سے صومالیہ تک علیحدگی پسند قوتوں اور پراکسی جنگوں کی حمایت کے ذریعے خطے میں عدم استحکام کا معمار بن گیا ہے؛ یہ کردار اسرائیل کی عرب دنیا کو تقسیم کرنے، بحری گذرگاہوں پر کنٹرول کی حکمت عملی سے جڑا ہوا ہے جس کا حتمی نتیجہ ـ صہیونی پراجیکٹ کے مطابق ـ گریٹر اسرائیل کی تشکیل اور عرب ممالک کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد عنایتی نجف آبادی

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha