بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی محکمہ دفاع کی سابق اسسٹنٹ سیکرٹری برائے مشرق وسطیٰ، ڈانا اسٹرول (Dana Stroul) نے فارن افیئرز میگزین میں ایک نئے مضمون میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا جائزہ پیش کرتے ہوئے ہوئے لکھا:
امریکہ نے 10,000 سے زیادہ جنگی پروازیں کیں:
• ایران کی میزائل اور ڈرون تنصیبات پر حملے کئے،
• ایران کی بحریہ کے بہت سے جہاز ڈبو دیئے، اور
• میزائل لانچنگ کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا اور اپنی روایتی فوجی برتری کا مظاہرہ کیا۔
اسرائیل کی معیت:
• اسرائیل کے ساتھ بے مثال ہم آہنگی قائم ہوئی،
• اسرائیل نے پہلے ایران کے فضائی دفاع اور درجنوں اعلیٰ عہدے داروں کو نشانہ بنایا۔
نتائج؛ ٹرمپ کے اسٹراٹیجک اہداف حاصل نہیں ہوئے:
• ایرانی حکومت نے ہتھیار نہیں ڈالے،
• خطے میں ایران کا اثر و رسوخ وسیع تر اور مضبوط تر ہو گیا، اور
• امریکہ کا مطلوبہ جوہری معاہدہ حاصل نہ ہو سکا۔
• ایران نے 12 روزہ جنگ کے بعد سبق سیکھا جو امریکہ کے لئے تباہ کن تھا۔
ایران نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی:
• فیصلہ سازی کو غیر مرکوز کر دیا،
• امریکی انٹرسیپٹرز کے ذخائر کے خاتمے کے لئے ڈرونز استعمال کئے،
• حملوں کو خلیجی ممالک کے غیر فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک پھیلایا،
• غیر متناسب حربوں سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا۔
• ایران کے ان اقدامات نے عالمی پر مستقل دباؤ ڈال دیا۔
امریکہ کے لئے جنگ کے نتائج:
• ایران نے امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر کو شدید کم کر دیا؛ 1,000 سے زیادہ ٹاماہاک میزائل اور تقریباً نصف THAAD اور پیٹریاٹ انٹرسیپٹر استعمال ہوئے، جبکہ ان ہتھیاروں کی سالانہ پیداوار بہت محدود ہے۔
• ایران کے ساتھ جنگ نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے بنیادی ضامن کے طور پر، امریکہ کا کردار ضعیف کر دیا۔
• خلیج فارس کے ممالک نے ایران کے حملوں اور واشنگٹن کے محدود جواب کے بعد عارضی طور پر امریکی اڈوں پر پابندیاں عائد کیں۔
• خلیج فارس کے عرب ممالک کا امریکہ پر اعتماد بہت زیادہ کمزور کر دیا۔
• یہ ممالک اب یوکرین، برطانیہ اور فرانس جیسے متنوع دفاعی شراکت داروں کی تلاش میں ہیں اور ڈرون شکن نیز بحری کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔
امریکہ کو یہ مشورہ ماننا ہوگا ورنہ۔۔۔
• امریکہ کو خصوصی ضامن کے کردار سے سلامتی کے کوآرڈینیٹر کا کردار اپنانا ہوگا،
• اپنے اڈوں کو خطے کے مغرب کی طرف منتقل کرنا ہوگا،
• خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی؛ اور
• کثیر الجہتی سلامتی کے ڈھانچے قائم کرنا ہونگے۔ [گوکہ شاید امریکہ کے لئے کافی دیر ہو چکی ہے]
بصورت دیگر، یہ جنگ جو فوجی طاقت کے مظاہرے کے مقصد سے لڑی گئی، تاریخ میں 'امریکہ کے لئے ایک ذلت آمیز جنگ' کے طور پر درج ہو گی، ایسی جنگ جو 'بعد از امریکہ مشرق وسطیٰ' کے قیام پر منتج ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ