18 اکتوبر 2026 - 22:31
1 | یمن ترک-پاکستانی فوجیوں کا قبرستان؟ / عثمانیوں کو دیا گیا ناقابل فراموش درس عبرت!

یمن میں موجود ترک جارحین و غاصبین کے قبرستان ـ جو آل سعود کی خيانت سے زوال پذیر ہونے والے عثمانی استعمار کی علامت ہیں ـ ان دنوں یمنی مجاہدین کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں، اور یہ اس وقت ہؤا ہے جب ترک حکمرانوں نے عثمانی سلطنت سے غداری کرنے والے خاندان آل سعود کی استعماری پالیسی آگے بڑھانے میں ہاتھ بٹانے کے لئے یمن میں فوجی مداخلت کا اعلان کیا۔ / سرزمین یمن میں عثمانی دور کے قبرستان درحقیقت عثمانیوں کی استعماری موجودگی کی علامت تھے۔ ان یادگاروں پر جان بوجھ کر حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انصاراللہ، یمن میں عثمانی فوجی مہمات کو، کس انداز سے یاد کرتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جیسا کہ سعودی سے وابستہ خبر رساں ایجنسیوں نے اعلان کیا ہے کہ سعودی فوج کی صفوں میں ترک اور پاکستانی فوجیوں کی شمولیت کے ساتھ ہی "مکہ معاہدہ" کا نفاذ نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

1 | یمن ترک-پاکستانی فوجیوں کا قبرستان؟ / عثمانیوں کو دیا گیا ناقابل فراموش درس عبرت!

اسی لئے، تجزیاتی ویب سائٹ "یوریشین ٹائمز (Eurasian Times)" نے سومت اہلاوت (Sumit Ahlawat) کے تحریر کردہ ایک مضمون میں عثمانی فوجیوں کی موجودگی کے تاریخی تجربے اور یمن کے میدان میں ترک فوجیوں کے سانحے کا جائزہ لیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ دردناک اور تلخ تجربہ آج بھی یمن کے معرکے میں ترک اور پاکستانی فوجیوں کے لئے دہرایا جا سکتا ہے۔

"یوریشین ٹائمز" کے مطابق، بحیرہ احمر کی سیکیورٹی صورتحال کی خرابی کے درمیان ہفتوں کے تذبذب کے بعد، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے بالآخر باہمی سیکیورٹی معاہدے یعنی "مکہ معاہدہ" کے فریم ورک میں "تسدیدی اقدامات" فعال کرنے پر اتفاق کیا۔

1 | یمن ترک-پاکستانی فوجیوں کا قبرستان؟ / عثمانیوں کو دیا گیا ناقابل فراموش درس عبرت!

اس معاہدے کے تحت، پاکستان اور ترکیہ نے انصاراللہ حکومت کے حملوں کا جواب دینے کے لئے تیزی سے سعودی عرب میں فوجی دستے تعینات کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اگست 2026 میں دستخط شدہ "مکہ معاہدہ" (یا "میثاق مکہ") فعال ہو رہا ہے۔

سعودی وزیر دفاع، خالد بن سلمان نے کہا: "کمیٹی نے اتفاق کیا کہ اتحاد کے فریم ورک میں ـ حملوں اور ان کے تمام ذمہ داروں کے جواب میں ـ اجتماعی تسدید (ڈیٹرنس) پر مبنی اقدامات کو فعال کیا جائے۔"

1 | یمن ترک-پاکستانی فوجیوں کا قبرستان؟ / عثمانیوں کو دیا گیا ناقابل فراموش درس عبرت!

"مکہ معاہدہ" میں باہمی دفاع سے متعلق ایک شق ہے، جو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہت رکھتی ہے، جس کے مطابق ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت، انقرہ ایک صدی سے زیادہ عرصے میں پہلی بار جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں اپنے فوجیوں کو تعینات کر سکتا ہے۔

1 | یمن ترک-پاکستانی فوجیوں کا قبرستان؟ / عثمانیوں کو دیا گیا ناقابل فراموش درس عبرت!

آخری بار ترک فوجیوں نے 1919 میں عثمانی تسلط کے تحت یمن میں خدمات انجام دیں۔ پہلی جنگ عظیم میں عثمانیوں کی شکست کے بعد، انقرہ نے معاہدۂ مودروس (Armistice of Mudros) کے تحت اناطولیہ سے باہر کے گیریژنوں کو حوالے کرنے پر اتفاق کیا۔

سنہ 1918 میں عثمانیوں اور اتحادی ممالک کے درمیان دستخط شدہ جنگ بندی کے بعد، یمن میں عثمانی گیریژنز ایک ایک کرکے برطانوی افواج کے حوالے کئے گئے۔

1 | یمن ترک-پاکستانی فوجیوں کا قبرستان؟ / عثمانیوں کو دیا گیا ناقابل فراموش درس عبرت!

1 | یمن ترک-پاکستانی فوجیوں کا قبرستان؟ / عثمانیوں کو دیا گیا ناقابل فراموش درس عبرت!

لہٰذا، معاہدۂ مکہ کا فعال ہونا ایک صدی سے زیادہ عرصے کے بعد ترک فوجیوں کی جزیرہ نما عرب کے جنوب میں واپسی کا باعث بن سکتا ہے۔

1 | یمن ترک-پاکستانی فوجیوں کا قبرستان؟ / عثمانیوں کو دیا گیا ناقابل فراموش درس عبرت!

درحقیقت، اگرچہ معاہدۂ مکہ پر صرف 2026 میں دستخط ہوئے، ترکیہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن واپسی کا موقع تلاش کرتا رہا ہے۔

معاہدۂ مکہ پر اگست 2026 میں دستخط ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha