18 اکتوبر 2026 - 19:48
ہندی کمپنیوں کے لئے گرین کارڈ پر پابندی؛ دھلی-واشنگٹن دوستی کا مغالطہ ٹوٹ گیا، آشیش رے

ٹرمپ انتظامیہ نے ہندوستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لئے گرین کارڈ کی درخواستوں پر پابندی لگا کر دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ مضمون میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھائے گئے ہیں

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||

اپنی پوری تاریخ میں ہندوستان عالمی سطح پر کبھی اتنا بے بس نظر نہیں آیا اور نہ ہی اس کے خارجہ تعلقات کبھی اتنے خراب اور پیچیدہ رہے ہیں جتنے آج ہیں۔ اس صورت حال کی ذمہ داری نریندر مودی اور ایس جے شنکر کی جوڑی پر عائد ہوتی ہے۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات کا اس قدر بکھر جانا شاید مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے انتظام میں اس ناتجربہ کاری کی سب سے بڑی مثال ہے، جو اس کی شناخت بن چکی ہے۔ 35 برس کی سخت محنت سے سنوارے گئے تعلقات آج تار تار ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ ڈونالڈ ٹرمپ کی غیر یقینی پالیسیوں سے کہیں زیادہ یہ ہے کہ مودی اپنے اس "خاص دوست" کے سامنے مضبوطی سے کھڑے نہیں ہو سکے، جو اب ایک دبنگ حکمراں بن چکا ہے۔ دنیا کے کئی چھوٹے بڑے ممالک کے رہنماؤں نے اس ضدی مزاج لیڈر سے کہیں بہتر انداز میں معاملہ کیا ہے۔

ہندوستان کے تئیں ٹرمپ انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی حقارت کا تازہ واقعہ ان ہندوستانی اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی ہے، جو غیر ملکی ملازمین کو امریکہ میں مستقل رہائش، یعنی گرین کارڈ، دلانے کے لئے ان کی کفالت کرتی ہیں۔ ٹرمپ نے انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس)، کاگنیزنٹ، وپرو اور ایچ سی ایل کے ساتھ مائیکروسافٹ، کیپ جیمینی اور ایڈوبی کو بھی اپنے ان ملازمین کے لئے گرین کارڈ کی درخواستیں دینے سے روک دیا ہے، جو ایچ-1 بی ویزا پر امریکہ میں کام کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر محنت کیتھ سونڈرلنگ نے اعلان کیا، "میں دنیا کی چند بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کو مستقل ملازمت کی سند کے پروگرام (پی ای آر ایم) سے فوری طور پر معطل کر رہا ہوں۔" اس فیصلے کو امریکہ میں کام کرنے والے ہندوستانی ٹیکنالوجی ماہرین کے ساتھ ساتھ ان کمپنیوں کے لئے بھی ایک بڑا دھچکا سمجھا جارہا ہے، جن کے لئے اب ملازمین کی بھرتی کا عمل کہیں زیادہ مہنگا ہو جائے گا۔

ہندوستانی وزارت خارجہ نے حسب روایت نہایت محتاط اور کمزور ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ "مشترکہ عزائم کو آگے بڑھانے میں مددگار نہیں ہے۔"

حقیقت یہ ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ اب تنکے کا سہارا تلاش کر رہی ہے، کیونکہ جنوری 2025 میں اپنی دوسری مدت صدارت شروع کرنے کے بعد سے ٹرمپ نے ہندوستان کو کبھی ترجیحی شراکت دار نہیں سمجھا۔ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے؛ جبکہ ہندوستان کے دو سب سے پیچیدہ پڑوسی ممالک، پاکستان اور چین، ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

ہنرمند ہندوستانی پیشہ ور افراد کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کا پیغام بالکل واضح اور دوٹوک ہے: امریکہ سے نکل جاؤ۔ اگر مودی، جے شنکر اور وزیر تجارت پیوش گوئل اب بھی یہ بات نہیں سمجھ پائے ہیں تو وہ خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔

ٹرمپ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اس صورت حال پر مزید تلخی پیدا کرتے ہوئے کہا: "اگر آپ حساب لگائیں تو مائیکروسافٹ نے جتنے امریکی ملازمین کو ملازمت سے نکالا، ان کی جگہ اوسطاً ڈیڑھ غیر ملکی بندھوا مزدور رکھ لئے۔" ان کا دعویٰ تھا کہ کمپنی نے 2025 میں 6000 امریکی ملازمین کو فارغ کیا، تاکہ ایچ-1 بی ویزا پر 6300 نئے غیر ملکی ملازمین اور تقریباً 3000 گرین کارڈ رکھنے والوں کو ملازمت دے سکے۔

ہندوستان نے وینس کے اس تبصرے کو "انتہائی توہین آمیز" قرار دیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وینس نے ایسی اصطلاح استعمال کی ہے جس سے دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی ذہنیت کی بو آتی ہے۔ تاہم، یہ محض رسمی احتجاج ہے، جس میں کوئی مؤثر سفارتی قوت دکھائی نہیں دیتی۔

مائیکروسافٹ کو مستقل ملازمت کی سند کے لئے درخواست دینے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امریکی قانون کے تحت ایسی کمپنیوں سے یہ ثابت کرنے کی توقع کی جاتی ہے کہ کسی غیر ملکی شہری کو ملازمت دینے سے مقامی امریکی کارکنوں کی اجرت یا روزگار کے مواقع پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

اس معاملے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر ستیہ نڈیلا ہندوستانی نژاد ہیں۔ جنہیں اسی ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے امریکہ کے ممتاز "نیشنل میڈل آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن" سے نوازا تھا۔ دوسری جانب، پیوش گوئل نے بظاہر بے فکری ظاہر کرنے کی کوشش میں یہ دلیل پیش کی کہ امریکی پابندیاں دراصل "ہندوستانی معیشت کے لئے فائدہ مند" ثابت ہو سکتی ہیں۔

ان کے مطابق، اس پابندی سے باصلاحیت افراد کے بیرون ملک جانے کے رجحان، یعنی برین ڈرین (Briaindrain)، پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ہنرمند پیشہ ور افراد ہندوستان میں ہی رہیں گے اور اس سے ملک میں مقامی اسٹارٹ اپس اور عالمی صلاحیت مراکز (گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز) کی ترقی کو رفتار ملے گی۔ تاہم، اس دلیل سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور ہندوستانی کمپنیوں کو درپیش فوری مشکلات ختم نہیں ہو جاتیں۔

گذشتہ سال ٹرمپ نے امریکہ آنے والی ہندوستانی برآمدات پر 50 فیصد کا بھاری محصول عائد کردیا تھا۔ بعد ازاں، فروری میں امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد اسے کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود، روس سے خام تیل خریدنے والے ممالک پر امریکی پارلیمنٹ کی منظور کردہ 100 فیصد درآمدی محصول کی تلوار اب بھی ہندوستان کے سر پر لٹک رہی ہے۔

اس بات کا قوی امکان ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور روس سے ڈیزل کی عالمی فراہمی جاری رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر ہی ٹرمپ نے اب تک اس سخت اقدام کو نافذ نہیں کیا ہے۔

اب ہندوستان صرف یہی امید کر سکتا ہے کہ اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کو سیاسی دھچکا لگنے کے بعد قانون سازی کے ذریعے ایسے حفاظتی اقدامات سامنے آئیں گے، جو ہندوستان کے تئیں ان کے سخت رویئے کو محدود کر سکیں۔ لیکن جب تک ہندوستان کے مفادات سے ہم آہنگ کوئی ڈیموکریٹ رہنما وائٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہوتا، نئی دہلی کے لئے حقیقی راحت کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔

ایک بنیادی مشورہ:

کوئی ڈیموکریٹ اگر آبھی جائے تو کیا اس سے ہندوستان کا مسئلہ وقتی طور پر حل ہونے کا امکان ضرور ہے لیکن اگر اگلے انتخابات میں پھر بھی کوئی ریپبلکن اور ہدروستان مخالف شخص برسر اقتدار آئے تو کیا ہندوستان کو پھر بھی 4 یا آٹھ سال تک کسی ڈیموکریٹ کا انتظار کرنا پڑے گا؟ کیا بہتر نہیں ہے کہ ہندوستان جتنا بڑا ملک اپنی تقدیر فلسطین پر قابض یہودیوں اور امریکہ کی ڈیموکریٹ پارٹی پر انحصار کرنے کے بجائے، حقیقی خودمختاری کی طرف چلا جائے اور برکس اور شنگھائی جیسی تنظیموں میں اپنا کردار بڑھا دے اور آس پاس کے طاقتور ممالک اور بڑی معیشتوں سے سچائی پر مبنی تعلقات استوار کرے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha