بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی آبنا || نامور امریکی صحافی، بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور سی این این کے پروگرام "جی پی ایس" کے میزبان، فرید زکریا، واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں استدلال کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مبینہ فوجی کامیابیوں کو اس ملک کی فتح کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔/ مانتے ہیں کہ واشنگٹن نے ایران کو نقصان پہنچایا لیکن نہ تو اس ملک کی حکومت کو گرانے میں کامیابی حاصل کی اور نہ ہی خود جنگ کے معاشی اور فوجی اخراجات سے محفوظ رہا۔ / امریکہ اب آبنائے ہرمز کے حالات کو جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز امریکی حملوں سے سے پہلے کھلا تھا۔
فرید زکریا لکھتے ہیں:
دوسری قسط:
3۔ جنگ کی لاگت دسوں ارب بلین ڈالر تک پہنچ گئی
• امریکی سرکاری اعداد و شمار ظاہر کے مطابق، جنگ کی لاگت اب تک 45 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ کانگریس کے بجٹ آفس نے بھی اندازہ لگایا ہے کہ تنازع کے کم سطح پرجاری رہنے کی صورت میں بھی، ماہانہ 2 ارب ڈالر اضافی اخراجات آئیں گے۔
• یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے فوجی آپریشنز کے خاتمے یا میدان میں کچھ کامیابیوں کے حصول سے جنگ کی لاگت ختم نہیں ہوتی۔
• امریکہ کو آپریشن جاری رکھنے اور ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لئے اب بھی بہت بھاری مالی وسائل مختص کرنا ہوں گے؛ اور یہ ایسے حالات میں جب واشنگٹن کا مطلوبہ سیاسی نتیجہ حاصل نہیں ہو پایا ہے۔
4۔ انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں شدید قلت
• امریکہ نے ممکنہ طور پر جنگ کے دوران اپنے کچھ جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کا نصف سے دو تہائی تک استعمال کر لیا ہے۔ ان ہتھیاروں کی جگہ لینے میں پانچ سال سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
• اس مسئلے کی اہمیت صرف میزائلوں کی دوبارہ خریداری اور پیداوار کی لاگت تک محدود نہیں۔ یہ ہتھیار چین کے ممکنہ مقابلے کے لئے بھی اہم ہیں اور ان کے ذخائر میں کمی دیگر عالمی خطوں میں امریکی فوجی صلاحیت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
• علاوہ ازیں، جون کے آخر تک کم از کم چھ امریکی جنگی جہاز بحر الکاہل سے مشرقِ وسطیٰ منتقل کئے جا چکے تھے۔
• اس طرح ایران کے ساتھ جنگ نے نہ صرف امریکہ کے مالی اور ہتھیاروں کے وسائل استعمال کئے بلکہ دیگر خطوں میں تعینات فوجی سازوسامان کا بھی ایک حصہ اپنے لئے مختص کر لیا۔
5۔ جنگ کی لاگت امریکیوں کی زندگیوں پر منتقل
• توانائی کی قیمتوں میں اضافہ امریکہ کے لئے بے پناہ جنگی اخراجات کا ایک اور ثبوت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے بعد برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی؛ جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
• موڈیز اینالیٹکس (Moody's Analytics) کے چیف اکنامسٹ مارک زندی (Mark Zandi) نے تخمینہ لگایا ہے کہ جولائی تک قیمتوں میں اضافے، سود کی ادائیگیوں اور فوجی اخراجات کی مد میں، ہر امریکی گھرانے پر پڑنے والا جنگ کا مالی بوجھ 1200 ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا۔ امریکیوں نے پٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 130 ارب ڈالر اضافی خرچ برداشت کیا ہے۔
• ڈیزل کی قیمت میں اضافے نے سامان کی نقل و حمل، زراعت اور خوراک کی پیداوار کی لاگت بھی بڑھا دی ہے۔
• جو گھرانے اپنے گھروں گرم کرنے کے لئے تیل استعمال کرتے ہیں، سردیوں میں، اخراجات میں 50 فیصد سے زیادہ تک اضافے کا سامنا کر سکتے ہیں۔
• نتیجے کے طور پر، جنگ کی لاگت صرف سرکاری بجٹ یا فوجی بلوں تک محدود نہیں ہے؛ اس کا ایک حصہ توانائی اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے گھرانوں پر منتقل ہو چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ