5 اکتوبر 2026 - 04:49
امریکی جہاز 1000 کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے تک پسپا ہو گئے، بریگیڈیئر جنرل فدوی + دلچسپ تصویر

سپاہ بحریہ کے سابق کمانڈر نے کہا: امریکی بھاگ کر ہماری سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ، پسپا ہو گئے؛ وہ اپنے اختیار سے نہیں بھاگے، بلکہ اسلامی جمہوریہ کی طاقت اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی فوج کی طاقت کی تاب نہ لا کر راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران کی بحریہ کے سابق کمانڈر اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے مشیروں کی ٹیم کے سربراہ، بریگیڈیئر جنرل پاسدار علی فدوی  نے (اتوار، 4 اکتوبر کو) ایران کے سرکاری نیوز چینل کی "خصوصی گفتگو" نامی پروگرام میں، آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال، نیز امریکی بحریہ کی پوزیشن کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا:

•  آبنائے ہرمز، کئی مہینوں سے یقینی اور ناقابلِ انکار طور پر، ایران کے کنٹرول میں ہے۔

• امریکیوں کے پاس سمندری بنیاد پر فوجی طاقت ہے؛ یعنی ان کی بحریہ میں، ان کے پاس بحریہ بھی ہے، زمینی فوج بھی ہے اور فضائیہ بھی ہے اور امریکہ کی شیطانی طاقت کا مظہر ان کی بحریہ ہے۔

• امریکی کئی سالوں سے خلیج فارس میں ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ امریکیوں کا کوئی بحری جہاز نہ خلیج فارس میں ہے، نہ آبنائے ہرمز میں، نہ بحیرہ عمان میں، بلکہ بحر ہند کے شمال میں بھی کوئی امریکی جہاز نہیں ہے۔

• امریکی بھاگ گئے اور ہماری سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ، پسپا ہو گئے؛ لیکن وہ اپنے اختیار سے نہیں بھاگے، بلکہ اسلامی جمہوریہ کی طاقت اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی فوج کی طاقت کی تاب نہ لا کر راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔

• ہمارے مجاہدین نے ـ جو حالیہ برسوں میں ظاہری اور مادی لحاظ سے دنیا کی سپر پاور اور دنیا کی سپر پاورز کے سامنے ڈٹے رہے، ـ انہیں تمام تر اہداف و مقاصد میں ناکامی سے دوچار کیا اور دشمن، ـ یعنی بڑا شیطان امریکہ، ـ جنگ میں اپنے کسی بھی ہدف تک نہیں پہنچ سکا ہے

امریکہ اپنے بحری جہازوں کی موجودگی کے بغیر خطے میں حکمرانی نہیں کر سکتا

• امریکہ اب خطے میں حکمرانی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، امریکی یقیناً اپنے بحری جہاز استعمال کرنے پر مجبور ہیں؛ کیونکہ فضائی طاقت سے اپنی حکمرانی قائم نہیں کر سکتے

• ممکن ہے کوئی ملک ہر روز کسی علاقے پر بمباری کرے، لیکن جب تک اس کی فوجیں اس علاقے میں جسمانی طور پر موجود نہ ہوں، وہ حکمرانی نہیں کر سکتا یا جو چاہے وہ حاصل نہیں کر سکتا۔

• امریکی بحری جہاز سپاہ کی افواج کے سامنے 100 فیصد خطرے، زد پذیری اور حملے سے دوچار ہیں۔

• امریکیوں نے کئی بار کوشش کی کہ اپنے فوجی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل کریں، لیکن سپاہ کی بحریہ اور سپاہ کی ایرواسپیس فورس کے حملے کا نشانہ بنے اور داخل نہ ہو سکے۔

• امریکی تناؤ کو بڑھانے سے قاصر اور اپنی طاقت استعمال کرنے سے عاجز ہیں۔

خطے کے ممالک امریکہ کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں

• خطے کے ممالک کو امریکہ کے سامنے کھڑا ہونا چاہئے اور وہ یہ کر سکتے ہیں اور امریکہ کا مقابلہ کر سکتے ہیں؛ جیسا کہ عراق نے اپنے ملک سے امریکیوں کے انخلا پر اصرار کیا اور کچھ دن پہلے امریکی وزارت جنگ نے باضابطہ اعلان کیا کہ امریکی فوجیں عراق کے علاقے سے نکل گئی ہیں۔

• ہم نے کسی بھی صورت میں مسلمان ممالک کو کو نشانہ نہیں بنایا؛ ہم نے ان اڈوں کو نشانہ بنایا جو ہمارے دشمن کے قبضے میں تھے؛ دشمن جو نہ صرف ایران اور اسلام کا دشمن تھا، بلکہ انسانیت کا دشمن تھا اور خطے کے ممالک کی سرزمین پر اس نے گھونسلے بنا رکھے تھے۔ ہم نے ان اڈوں اور ان گھونسلوں کو نشانہ بنایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

امریکی جہاز 1000 کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے تک پسپا ہو گئے، بریگیڈیئر جنرل فدوی

مہمان کی خاطر مدارت کا عربی اسٹائل!

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha