بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || تاریخ کے پروفیسر اور ’نیوکلیئر اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ‘ کے ڈائریکٹر پیٹر کوزنک نے ’المیادین‘ کے پروگرام "The Great Confrontation: Iran and the World" کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا:
• واشنگٹن سنہ 2011ع سے اپنی توجہ مغربی ایشیا اور یورپ سے بحرالکاہل کی طرف منتقل کرنے کی بات کر رہا تھا، لیکن موجودہ پسپائی رضاکارانہ نہیں ہے۔ کوزنک کے مطابق امریکہ کو خاص طور پر ایرانیوں کے ذریعے خطے سے باہر نکالا جا رہا ہے اور یہ امریکہ کے لئے ایک انتہائی سنگین تزویراتی شکست ہے۔
• امریکی افواج خلیج فارس کی عرب ریاستوں سے اردن میں منتقل ہوئیں اور خطے میں تیسرا طیارہ بردار جہاز تعینات کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنی علاقائی موجودگی کو زیادہ مطلوبہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور شدت کے ساتھ عینی حقیقت پر قابل قبول پردہ ڈالنے کے لئے کوشاں ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس خطے میں شکست کھا گیا ہے اور اس نے پسپائی اختیار کی ہے۔
• امریکہ کی علاقائی پسپائی ایران کی فوجی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔ تہران دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اس تصادم کے لئے تیار ہے اور اب اس نے خطے بھر میں امریکی افواج اور اہداف کو نشانہ بنانے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
• ایران نے اپنے کچھ سازوسامان اور صلاحیتوں کو زیر زمین تنصیبات میں رکھا ہے اور اس کے پاس میزائل اور ڈرون صلاحیتیں ہیں جو اسے خطے بھر میں اہداف پر حملہ کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔
• ایرانی دفاعی نظریئے میں آبنائے ہرمز کی اہمیت نمایاں ہے اور اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ اس آبی گذرگاہ میں جہاز رانی کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔
• عراقی مزاحمتی افواج اور انصاراللہ سمیت علاقائی افواج کے اقدامات بھی واشنگٹن کی پسپائیوں میں مؤثر ہیں؛ ان افواج نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی روکنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
• اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایرانی عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر اور رکھ سکتے ہیں۔
• اس صورتحال میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں ہے، گوکہ وہ مزید فوجی سازوسامان بھیج رہا ہے، جبکہ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک سفارتی حل ہے۔ یہ معاملہ بالآخر مذاکرات کی میز پر حل ہوگا۔
• ہماری سب سے بڑی فکرمندی ممکنہ جوہری کشیدگی، بشمول ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہے جس کی وجہ سے خطے کے لئے سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ مایوس ٹرمپ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی طرف رخ کر سکتا ہے۔ یہ تمام فریقوں کے لئے ایک ڈراؤنا منظر نامہ ہوگا۔
• یہ تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے اور حتیٰ کہ زمین پر زندگی کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
• تنازعات کو مزید بڑھنے سے پہلے ختم ہونا چاہئے امید ہے کہ سیاسی کوششیں فوجی دشمنیوں کے مزید پھیلاؤ کو روک سکیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ