29 ستمبر 2026 - 14:13
ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں، انتشار راستے میں ہے!، کرنل ڈاگلس میک گریگور + ویڈیو

پینٹاگون کے سابق مشیر، : آخرکار، ہم دیکھیں گے کہ لوگ ہر چیز کو راشن پر لینے پر مجبور ہو جائیں گے، کیونکہ ہمیں خوراک کی فراہمی میں دشواری کا سامنا ہوگا۔ کیونکہ نقل و حمل کا نظام اب صحیح طریقے سے کام نہیں کرے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || پینٹاگون کے سابق مشیر، کرنل ڈاگلس میک گریگور (Col. Douglas Macgregor)، نے ایک انٹرویو میں کہا: ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں، ہمارے ہاں معاشی نمو نہیں ہے، ہم معاشی نمو کے ذریعے اس صورتحال سے باہر نہیں نکل سکتے۔ کوئی بھی ٹیکس بڑھا کر اس سے باہر نکلنا نہیں چاہتا۔ کوئی بھی ان کسانوں اور مال مویشی پالنے والوں کی طرف توجہ نہیں دے رہا ہے جو دیوالیہ پن کے دہانے پر ہیں، کیونکہ یا تو ان کے پاس کھاد خریدنے کی طاقت نہیں ہے یا وہ اسے بالکل بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ ہم اسی طرح یہ فہرست جاری رکھ سکتے ہیں۔

ویڈیو کی تفصیل:

اور آخرکار ہم دیکھ لیں گے کہ لوگ ہر چيز کی راشن بندی پر مجبور ہونگے۔ کیونکہ ہمیں اشیائے خورد و نوش کے سلسلے میں مشکل کا سامنا ہے۔ کیونکہ نقل و حمل کا نظام مزید درست کام نہیں کرتا۔ کوئی بھی دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچنے والے کاشتکاروں کو توجہ نہیں دیتا۔

وہ یا تو کھاد خریدنے سے عاجز ہیں یا اصولی طور پر اس کی فراہمی سے۔

ہم اس فہرست کو اسی انداز سے جاری رکھ سکتے ہیں۔

نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ خیالی دنیا میں رہتا ہے۔

یہ حقیقت قابل توجہ ہے کہ قومی قرض اور حکومت کے قرض کا ایک تہائی حصہ، ان ہی جنگوں سے جنم لیتا ہے جن کا سلسلہ ہم نے سنہ 2001 سے جاری رکھا ہے۔

ہمیں ار جنگوں کی وجہ سے، سابق فوجیوں کی تاحیات دیکھ بھال  پر دو سے تین ہزار ارب ڈالر کے اخراجات کا سامنا ہے۔

ہم نے ـ ایران جنگ کے سوا ـ آج تک کی جنگونں پر کم از کم 8000 ارب ڈالر کی خطیررقم خرچ کی ہے۔

ڈین! ہم دیوالیہ ہے، ہمارے یہاں اقتصادی نمو نہیں ہے، چنانچہ اقتصادی نمو کے ذریعے اس صورت حال سے نہیں نکل سکتے۔

کوئی بھی ٹیکس میں اضافہ کرکے اس صورت حال سے نہیں نکلنا چاہتا۔

تو آخرکار اس صورت حال کا کیا مطلب ہے؟

کسی وقت، بھوسے کا یہ گھر، یہ مالیاتی ڈھانچہ اور وسائل، جو پیدوار کی کمزور اور ٹوٹتی ہوئی بنیادوں، تیل سے شدید وابستگی اور مسائل کے ایک مجموعے پر استوار ہے، شکست و ریخت کا شکار ہوجائے گا۔

اسی راستے پر گامزن رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، سب کچھ ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔

ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کا یہ واقعہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں رونما ہوگا؛ اور اس کے نتیجے میں اس کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha